اسلام آباد: کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے دارالحکومت میں شاہدرہ ڈیم کی تعمیر جلد شروع کرنے کا اعلان کیا ہے، جو منصوبہ بندی کے مطابق مکمل ہونے کی صورت میں تقریباً تین دہائیوں میں اسلام آباد کا پہلا بڑا نیا آبی منصوبہ ہوگا۔ سی ڈی اے کے مطابق ڈیم شاہدرہ پکنک ایریا کے قریب تعمیر کیا جائے گا اور اسے شہر کی بڑھتی ہوئی پانی کی ضرورت پوری کرنے کے لیے نئے سطحی آبی ذریعے کے طور پر تیار کیا جا رہا ہے۔
سی ڈی اے کے چیئرمین سہیل اشرف نے ڈان کو بتایا کہ منصوبے کے پی سی ون میں تکمیل کی مدت دو سال رکھی گئی ہے، تاہم اتھارٹی اسے تقریباً 20 ماہ میں مکمل کرنے کی کوشش کرے گی۔ سی ڈی اے کے سرکاری بیان کے مطابق منصوبہ حتمی ڈیزائن، تکنیکی جائزوں اور آپریشنل انتظامات سے مشروط طور پر اسلام آباد کے پانی کے نظام میں روزانہ تقریباً 5 سے 10 ملین گیلن پانی شامل کرسکتا ہے۔ یہ مقدار فی الحال تخمینہ ہے، حتمی پیداوار نہیں۔
شاہدرہ ڈیم کے ساتھ سی ڈی اے مارگلہ کی پہاڑیوں کے دامن میں چار چیک ڈیم بنانے کی بھی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ زیر غور مقامات میں سیکٹر ڈی 12، شاہ اللہ دتہ اور سیدپور کے قریب علاقے شامل ہیں۔ چھوٹے چیک ڈیم بارش کے پانی کے بہاؤ کو محدود کرکے اسے ذخیرہ کرنے اور زیر زمین پانی کی بحالی میں مدد دینے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔
اتھارٹی 100 ریچارج کنوؤں کے منصوبے پر بھی کام شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ سی ڈی اے چیئرمین کے مطابق اسلام آباد میں سالانہ تقریباً 1,100 ملی میٹر بارش ہوتی ہے، لیکن ذخیرہ کرنے کا مناسب نظام نہ ہونے کے باعث اس کا بڑا حصہ نالوں کے ذریعے بہہ جاتا ہے۔ ریچارج کنوؤں کا مقصد بارش کے پانی کو زمین میں جذب کروا کر زیر زمین پانی کی سطح بہتر بنانے میں مدد دینا ہے۔
اسلام آباد کئی برسوں سے پانی کی طلب اور دستیاب رسد کے درمیان فرق کا سامنا کر رہا ہے۔ شہر کی آبادی اور تعمیراتی پھیلاؤ کے ساتھ پانی کی ضرورت بڑھی ہے جبکہ موجودہ ذخائر، ٹیوب ویلز اور دوسرے ذرائع پر دباؤ بھی بڑھا ہے۔ اسی تناظر میں سی ڈی اے شاہدرہ کے علاوہ سملی ڈیم کے کیچمنٹ میں چنیوٹ ڈیم اور خانپور ڈیم کے کیچمنٹ میں ڈوتارا ڈیم کی منصوبہ بندی بھی کر چکی ہے۔
شاہدرہ منصوبے کی حقیقی افادیت اس کی حتمی انجینئرنگ، دستیاب پانی، ماحولیاتی تقاضوں، تعمیراتی رفتار اور شہر کے موجودہ سپلائی نیٹ ورک سے انضمام پر منحصر ہوگی۔ سی ڈی اے نے منصوبے کو اسلام آباد کی طویل مدتی واٹر سکیورٹی کی سمت اہم قدم قرار دیا ہے، لیکن 5 سے 10 ایم جی ڈی کا تخمینہ تکنیکی اور آپریشنل شرائط سے مشروط ہے اور تعمیر مکمل ہونے کے بعد ہی عملی فراہمی کی درست سطح واضح ہوگی۔
