شدید سمندری طوفان ارنب بھارت کی جنوبی ریاست آندھرا پردیش کے ساحل سے ٹکرا گیا، جس کے ساتھ تیز ہوائیں اور شدید بارش ہوئی۔ بھارتی محکمہ موسمیات کے مطابق طوفان نے کاکیناڈا کے قریب ساحل عبور کیا اور اس دوران ہواؤں کی رفتار تقریباً 110 سے 125 کلومیٹر فی گھنٹہ تک ریکارڈ کی گئی۔ ساحلی علاقوں میں پہلے سے انخلا اور ہنگامی انتظامات شروع کر دیے گئے تھے۔
آندھرا پردیش میں حکام نے نشیبی اور ساحلی علاقوں سے تقریباً 50 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا، جبکہ ہمسایہ ریاست اڑیسہ میں بھی ہزاروں لوگوں کو پناہ گاہوں میں لے جایا گیا۔ حکام نے ماہی گیروں کو سمندر میں نہ جانے کی ہدایت کی اور متاثرہ اضلاع میں امدادی ٹیمیں، کشتیاں اور ہنگامی سامان تعینات کیا۔
محکمہ موسمیات نے ساحلی آندھرا پردیش اور اڑیسہ کے بعض حصوں میں انتہائی شدید بارش، اچانک سیلاب اور نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے کا خدشہ ظاہر کیا۔ طوفان کے ساتھ بلند سمندری لہروں اور درختوں، بجلی کے کھمبوں اور کمزور عمارتوں کو نقصان پہنچنے کا خطرہ بھی موجود رہا۔ کئی علاقوں میں اسکول بند کیے گئے اور نقل و حمل پر احتیاطی پابندیاں لگائی گئیں۔
ارنب خلیج بنگال میں بننے والا طاقتور موسمی نظام ہے، جہاں گرم سمندری سطح طوفانوں کو توانائی فراہم کرتی ہے۔ ماہرین موسمیاتی تبدیلی کے باعث سمندری درجہ حرارت میں اضافے کو شدید بارش اور زیادہ طاقتور سمندری طوفانوں کے خطرے سے جوڑتے ہیں، تاہم کسی ایک طوفان کی شدت کو براہ راست موسمیاتی تبدیلی سے منسوب کرنے کے لیے الگ سائنسی تجزیہ درکار ہوتا ہے۔
بھارتی حکام نے ساحل سے ٹکرانے کے بعد نقصان کا جائزہ شروع کر دیا ہے۔ ابتدائی مرحلے میں ترجیح انسانی جانوں کے تحفظ، بجلی اور مواصلاتی نظام کی بحالی، سڑکوں سے رکاوٹیں ہٹانے اور زیر آب علاقوں میں امدادی رسائی پر ہے۔ دستیاب رپورٹ میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان کی حتمی تعداد جاری نہیں کی گئی تھی، اس لیے ابتدائی اعداد کو حتمی نقصان کا تخمینہ نہیں سمجھا جا سکتا۔

