اسلام آباد: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے 6 ستمبر کو سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان اور ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان سے الگ الگ ٹیلی فونک رابطے کیے، جن میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت ہونے والی پیش رفت اور پہلے اجلاس میں طے پانے والی مفاہمتوں پر عمل درآمد کا جائزہ لیا گیا۔ دفتر خارجہ نے ان رابطوں کی تصدیق کی ہے۔

دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار اور سعودی وزیر خارجہ نے علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت، کثیرالجہتی فورمز پر باہمی دلچسپی کے امور اور مکہ دفاعی فریم ورک کے تحت طے شدہ نکات کے فالو اپ پر گفتگو کی۔ دونوں وزرائے خارجہ نے قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔

بعد ازاں اسحاق ڈار نے ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان سے بات کی۔ دفتر خارجہ کے مطابق ڈار نے استنبول میں اسٹریٹجک پولیٹیکل اینڈ ڈیفنس کمیٹی کے افتتاحی اجلاس کی میزبانی پر ترکی کا شکریہ ادا کیا۔ دونوں رہنماؤں نے مکہ ڈیفنس الائنس کے تحت تعاون کو مزید آگے بڑھانے، دفاعی اور سیاسی رابطہ کاری بڑھانے اور علاقائی استحکام سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا۔

پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے اگست 2026 میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے ذریعے اپنے تزویراتی تعاون کو ایک منظم سہ فریقی فریم ورک میں ڈھالا تھا۔ 31 اگست کو استنبول میں ہونے والے افتتاحی اجلاس میں فریقین نے تعاون کو ادارہ جاتی شکل دینے، سعودی عرب میں سیکریٹریٹ کے قیام، دفاعی صلاحیتوں میں تعاون اور مشترکہ ٹیکنالوجی و پیداوار کے امکانات پر بات کی تھی۔

دفتر خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ موجودہ رابطوں کا مقصد انہی مفاہمتوں پر عمل درآمد کو جاری رکھنا تھا۔ اس فریم ورک کو پاکستانی حکام دفاعی نوعیت کا انتظام قرار دیتے ہیں جس کا مقصد اجتماعی بازدارندگی، دفاعی تعاون اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے۔ اس کے عملی دائرہ کار اور مستقبل کے ادارہ جاتی ڈھانچے سے متعلق مزید تفصیلات بتدریج سامنے آنے کی توقع ہے۔