اسلام آباد: پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کی جانب سے غزہ کی فلسطینی آبادی کو بڑے پیمانے پر منتقل کرنے سے متعلق حالیہ بیانات اور تجاویز کی مشترکہ طور پر مذمت کی ہے۔ 6 ستمبر کو جاری ہونے والے بیان میں پاکستان، مصر، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب، ترکی اور متحدہ عرب امارات نے کہا کہ فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے ہٹانے کی کسی بھی کوشش کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔

مشترکہ بیان میں اسرائیلی قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر اور وزیر دفاع اسرائیل کاٹز کے حالیہ بیانات کا حوالہ دیا گیا، جن میں غزہ کے باشندوں کی بیرونِ علاقہ منتقلی کے مختلف منصوبوں کی بات کی گئی تھی۔ آٹھوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے کہا کہ ایسی تجاویز بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کے بنیادی اصولوں سے متصادم ہیں اور فلسطینی عوام کے جائز اور ناقابل تنسیخ حقوق کے لیے براہ راست خطرہ بن سکتی ہیں۔

بیان میں واضح کیا گیا کہ فلسطینیوں کو مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے اندر یا باہر کسی بھی بہانے سے جبری طور پر منتقل کرنے کی کوششوں کو مسترد کیا جاتا ہے۔ وزرائے خارجہ نے خبردار کیا کہ اگر جبری بے دخلی کے مطالبات کو عملی پالیسی یا انتظامی اقدامات میں بدلا گیا تو اس کے خطے کی سلامتی، سیاسی عمل اور امن کی کوششوں پر سنگین اثرات پڑ سکتے ہیں۔

مشترکہ اعلامیے میں غزہ کو فلسطینی علاقے کا اٹوٹ حصہ قرار دیتے ہوئے مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم سمیت فلسطینی سرزمین کی وحدت برقرار رکھنے پر زور دیا گیا۔ آٹھ ممالک نے دو ریاستی حل کی حمایت دہرائی اور کہا کہ منصفانہ اور پائیدار امن کے لیے 4 جون 1967 کی حدود کی بنیاد پر ایک آزاد فلسطینی ریاست، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو، ضروری ہے۔

بیان میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ وہ ایسے اقدامات کو روکنے کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی آبادیاتی یا جغرافیائی ساخت کو طاقت کے ذریعے تبدیل کر سکتے ہیں۔ اسرائیلی وزرا کے بیانات سیاسی تجاویز کے طور پر سامنے آئے ہیں؛ ان پر عمل درآمد کی کوئی تصدیق شدہ صورت حال رپورٹ نہیں ہوئی۔