اسلام آباد: پاکستان نے نیپال میں حالیہ تباہ کن سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے متاثرہ آبادی کے لیے 100 ٹن انسانی امداد روانہ کر دی ہے۔ دفتر خارجہ کے مطابق امدادی کھیپ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے تعاون سے ایک چارٹرڈ پرواز کے ذریعے اسلام آباد سے کھٹمنڈو بھیجی گئی۔
امدادی سامان میں خیمے، کمبل، چٹائیاں، حفظانِ صحت کی کٹس اور ادویات شامل ہیں، جنہیں ان علاقوں میں تقسیم کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے جہاں سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے سے رہائشی آبادی، سڑکیں، پل اور دیگر بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہوا ہے۔ اسلام آباد ایئرپورٹ پر امدادی سامان روانہ کرنے کی تقریب میں پارلیمانی امور کے وزیر طارق فضل چوہدری، پاکستان میں نیپال کی سفیر ریتا دھیتال اور دفتر خارجہ و این ڈی ایم اے کے سینئر حکام شریک ہوئے۔
دفتر خارجہ نے کہا کہ یہ امداد پاکستان کی جانب سے نیپال کی حکومت اور عوام کے ساتھ مشکل وقت میں یکجہتی کا اظہار ہے۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی ایک بیان میں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نیپال کو ممکنہ معاونت فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
نیپال میں امدادی کارروائیاں ایسے وقت جاری ہیں جب تباہ کن سیلاب اور برفانی و پہاڑی ملبے کے بہاؤ کے بعد تلاش اور ریسکیو آپریشن بارہویں روز میں داخل ہو چکا ہے۔ ڈان اور اے ایف پی کے مطابق چین اور نیپال کی سرحدی پٹی میں اس آفت سے مجموعی طور پر ایک ہزار سے زیادہ اموات رپورٹ ہو چکی ہیں، جبکہ ہزاروں افراد لاپتا ہیں۔ نیپال میں بھی بڑی تعداد میں لاشیں نکالی جا چکی ہیں اور متعدد دور دراز علاقوں تک رسائی اب بھی مشکل ہے۔
متاثرہ علاقوں میں ہائیڈرو پاور منصوبوں، رابطہ سڑکوں، پلوں اور بجلی کے نظام کو نقصان پہنچا ہے۔ نیپالی حکام کے مطابق بعض زندہ افراد کو کئی روز بعد سرنگوں اور ملبے سے نکالا گیا، جس سے جاری ریسکیو آپریشن کو نئی امید ملی۔ اقوام متحدہ نے تباہی کے پیمانے کے پیش نظر امدادی اپیل بھی جاری کی ہے۔
پاکستان کی تازہ کھیپ فوری انسانی ضروریات پوری کرنے کے لیے ہے اور اس کے بعد نیپال کی ضرورت اور بین الاقوامی امدادی کوششوں کے مطابق مزید معاونت کا امکان موجود ہے۔ قدرتی آفت کے اس مرحلے پر ترجیح متاثرہ خاندانوں کے لیے عارضی رہائش، ادویات، صفائی ستھرائی، خوراک اور منقطع علاقوں تک رسائی بحال کرنا ہے۔




