بیجنگ: چینی مصنوعی ذہانت کی کمپنی ڈیپ سیک ممکنہ ابتدائی عوامی حصص فروخت، یعنی آئی پی او، سے قبل پہلی بار چیف فنانشل افسر مقرر کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ رائٹرز نے معاملے سے واقف دو افراد کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ کمپنی جی ایل وینچرز کے پارٹنر یان وینتاؤ کو اس عہدے کے لیے لانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ذرائع کو اس معاملے پر عوامی طور پر بات کرنے کی اجازت نہیں تھی، اس لیے تقرری کو کمپنی کی باضابطہ تصدیق شدہ اعلان کے بجائے رپورٹ شدہ منصوبہ سمجھا جانا چاہیے۔
ڈیپ سیک اور ہل ہاؤس انویسٹمنٹ نے رائٹرز کی درخواست پر فوری تبصرہ نہیں کیا، جبکہ یان وینتاؤ سے بھی رابطہ نہ ہو سکا۔ جی ایل وینچرز ہل ہاؤس انویسٹمنٹ کا وینچر کیپیٹل بازو ہے اور ٹیکنالوجی، بایوٹیک اور صارفین سے متعلق شعبوں میں سرمایہ کاری کرتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ہل ہاؤس خود ڈیپ سیک کا سرمایہ کار نہیں ہے۔ یان کی ڈیل میکنگ اور سرمایہ کاری کی مہارت ممکنہ لسٹنگ کی صورت میں سرمایہ کاروں سے رابطے، مالیاتی کنٹرول، سرمائے کی تقسیم اور لازمی انکشافات جیسے معاملات میں اہم ہو سکتی ہے۔
یہ پیش رفت اس رپورٹ کے تقریباً ایک ہفتے بعد سامنے آئی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ ہانگژو کی ڈیپ سیک نے ممکنہ آئی پی او کی تیاری کے لیے چینی بروکریج سی آئی ٹی آئی سی سیکیورٹیز کی خدمات حاصل کی ہیں۔ کمپنی شنگھائی کی ٹیکنالوجی پر مرکوز اسٹار مارکیٹ میں ممکنہ لسٹنگ کا جائزہ لے رہی ہے، تاہم نہ حتمی تاریخ سامنے آئی ہے اور نہ ہی کمپنی نے عوامی طور پر کسی مکمل شدہ فائلنگ کا اعلان کیا ہے۔
ڈیپ سیک نے کم لاگت والے جدید اے آئی ماڈلز کے باعث گزشتہ سال عالمی توجہ حاصل کی تھی، جس کے بعد یہ بحث تیز ہوئی کہ سرحدی نوعیت کے بڑے اے آئی نظام بنانے کے لیے کس حد تک بھاری کمپیوٹنگ سرمایہ کاری ضروری ہے۔ کمپنی کی ابتدا بانی لیانگ وین فینگ کے کوانٹیٹیٹو ہیج فنڈ ہائی فلائر کی مالی معاونت سے ہوئی تھی، لیکن اب یہ بیرونی سرمایہ اکٹھا کرنے اور زیادہ روایتی کارپوریٹ ڈھانچے کی جانب بڑھتی دکھائی دیتی ہے۔
رائٹرز کے مطابق ڈیپ سیک ایک جاری فنڈ ریزنگ مرحلے میں تقریباً 500 ارب یوان، یعنی 74 ارب ڈالر، کی قدر پر سرمایہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ جون میں کمپنی نے تقریباً 7.4 ارب ڈالر اکٹھے کیے تھے اور اس کی پوسٹ منی ویلیو 50 ارب ڈالر سے زیادہ بتائی گئی۔ کمپنی نے کمپیوٹنگ انفراسٹرکچر، چپ ڈویلپمنٹ اور ہنرمند افرادی قوت پر اخراجات بھی بڑھائے ہیں۔
یان وینتاؤ کی ممکنہ تقرری اور آئی پی او کی تیاری دونوں ڈیپ سیک کے تحقیقی لیب سے زیادہ منظم کارپوریٹ ادارے میں بدلنے کی جانب اشارہ کرتی ہیں۔ تاہم موجودہ مرحلے پر تقرری، لسٹنگ کی تاریخ اور آئی پی او کی حتمی ساخت کے بارے میں کوئی رسمی حتمی اعلان نہیں ہوا، اس لیے ان نکات کو منصوبہ بندی اور تیاری کے مرحلے کی پیش رفت کے طور پر ہی دیکھا جانا چاہیے۔
