واشنگٹن: امریکی سینیٹ کے مذاکرات کار ایسے مجوزہ قانون پر غور کر رہے ہیں جس کے تحت مصنوعی ذہانت کی بڑی کمپنیوں کو یہ ثابت کرنا پڑ سکتا ہے کہ وہ اپنے جدید ماڈلز سے پیدا ہونے والے سنگین نقصانات کو روکنے کے لیے معقول حفاظتی اقدامات اختیار کر رہی ہیں۔ رائٹرز نے ایک سینیٹ معاون اور مذاکرات سے واقف ایک لابیسٹ کے حوالے سے بتایا ہے کہ تجویز میں اے آئی ڈویلپرز پر ایک طرح کی ’ڈیوٹی آف کیئر‘ عائد کرنے پر بحث جاری ہے۔ یہ ابھی مسودہ سازی اور سیاسی مذاکرات کا مرحلہ ہے، منظور شدہ قانون نہیں۔
رپورٹ کے مطابق امریکی وزیرِ تجارت کو یہ اختیار دینے پر غور ہو رہا ہے کہ وہ کمپنیوں سے ان کے حفاظتی اقدامات کے ثبوت مانگ سکے۔ محکمہ تجارت کے سرکاری آڈیٹرز کو بعض اے آئی مصنوعات اور ماڈلز کی خود جانچ کی اجازت دینے کی تجویز بھی زیر بحث ہے۔ تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ قانون میں ’معقول‘ حفاظتی اقدام کی تعریف کیا ہوگی یا کسی کمپنی کی تعمیل جانچنے کے لیے حتمی معیار کیا مقرر کیے جائیں گے۔
مذاکرات میں سینیٹ کے اکثریتی رہنما جان تھون، سینیٹ کامرس کمیٹی کے چیئرمین ٹیڈ کروز اور ڈیموکریٹ سینیٹر ایمی کلوبشار شامل بتائے گئے ہیں۔ کلوبشار نے ایک بیان میں کہا کہ وہ اے آئی ماڈلز سے پیدا ہونے والے بڑے خطرات کی سرکاری نگرانی کے لیے دو جماعتی سمجھوتے پر کام جاری رکھے ہوئے ہیں اور ڈویلپرز سے یہ تقاضا زیر غور ہے کہ وہ حکومتی ماہرین کے ساتھ ماڈلز کی تصدیق اور ٹیسٹنگ میں تعاون کریں۔ کروز اور تھون کے ترجمانوں نے رائٹرز کی فوری درخواست پر تبصرہ نہیں کیا۔
رائٹرز کے مطابق مذاکرات کار ایک الگ شق پر بھی غور کر رہے ہیں جس میں وفاقی حکومت کو کسی مخصوص اے آئی ماڈل کی ریلیز روکنے کے لیے عدالت سے رجوع کرنے کا راستہ دیا جا سکتا ہے، اگر حکام اسے غیر معمولی طور پر خطرناک سمجھیں۔ کمپنیوں کو ایسے فیصلے کے خلاف وفاقی عدالت میں چیلنج کا حق دینے پر بھی بحث ہو رہی ہے۔ اس ممکنہ بندوبست کی حدود اور حکومت کے اختیارات کی حتمی شکل ابھی طے نہیں ہوئی۔
قانونی تجویز ایسے وقت زیر بحث ہے جب جدید اے آئی ماڈلز کی تیز رفتار صلاحیتوں، سائبر خطرات، حیاتیاتی یا دیگر تباہ کن استعمال کے امکانات اور انسانی نگرانی کے بارے میں صنعت اور پالیسی حلقوں میں بحث بڑھ گئی ہے۔ گزشتہ ہفتے انتھروپک کے ایک محقق کے استعفے اور بعض بڑی اے آئی کمپنیوں کے سربراہان کی جانب سے ترقی کی رفتار پر احتیاط کی اپیلوں نے بھی اس بحث کو تیز کیا۔
اس تجویز کے قانون بننے کے امکانات غیر یقینی ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو کہا کہ موجودہ امریکی اختیارات ٹیکنالوجی کمپنیوں کی نگرانی اور خلاف ورزیوں پر کارروائی کے لیے کافی ہیں، جس سے نئے وفاقی قواعد کی حمایت مشکوک دکھائی دیتی ہے۔ اس لیے موجودہ پیش رفت کو حتمی امریکی اے آئی ضابطہ نہیں بلکہ سینیٹ میں زیرِ بحث ممکنہ قانون سازی کے طور پر بیان کرنا درست ہے۔
