نئی دہلی: بھارت کے دارالحکومت میں جنتر منتر کے نزدیک واقع طویل عرصے سے معروف احتجاجی مقام کی سرکاری حیثیت ختم کر دی گئی ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کی 14 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق دہلی پولیس نے پیر کو جاری حکم میں واضح کیا کہ جنتر منتر کو مظاہروں کے لیے مقررہ مقام کی فہرست سے نکال دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب انتخابی فہرستوں اور حکومتی اقدامات کے خلاف نوجوانوں کے احتجاج جاری ہیں۔

وسطی دہلی میں تاریخی فلکیاتی رصدگاہ کے قریب تقریباً ڈیڑھ کلومیٹر طویل سڑک 1993 سے مختلف تنظیموں کے احتجاج کا مرکز رہی ہے۔ مزدور یونینوں، سابق فوجیوں، طلبہ، خواتین کے حقوق کے کارکنوں اور انسداد بدعنوانی کی تحریکوں نے اس جگہ اجتماعات کیے۔ اس کی اہمیت کا ایک سبب پارلیمان اور حکومتی مراکز سے نسبتاً قربت بھی تھی، جس کی وجہ سے احتجاج کرنے والوں کے مطالبات سیاسی حلقوں تک پہنچتے تھے۔

حالیہ دنوں میں انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کے خلاف احتجاج کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان کشیدگی بڑھی۔ ناقدین کو خدشہ ہے کہ ووٹر فہرستوں میں تبدیلیوں سے اہل ووٹر متاثر ہو سکتے ہیں؛ تاہم یہ ناقدین کا مؤقف ہے، کسی عدالتی نتیجے کی اطلاع نہیں۔ رپورٹ کے مطابق نوجوانوں کی ایک تحریک کے کارکنوں نے احتجاج کی اجازت نہ ملنے کے باوجود مقام تک پہنچنے کی کوشش کی۔ دو رہنماؤں کو مبینہ غیر مجاز داخلے کے معاملے میں پانچ روز کے لیے جیل بھیجا گیا۔

پولیس نے فیصلے کے دفاع میں سپریم کورٹ کی اس ہدایت کا حوالہ دیا کہ احتجاج کے لیے موزوں متبادل مقامات کی نشاندہی کی جائے۔ حکام نے دارالحکومت میں تین متبادل جگہیں مختص کی ہیں۔ اس کے برعکس شہری حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ احتجاج کی مؤثر حیثیت صرف کسی بھی جگہ اجتماع کی اجازت سے قائم نہیں رہتی بلکہ اس کے لیے حکومتی اداروں کے قریب رسائی بھی اہم ہے۔

انسانی حقوق کی کارکن شبنم ہاشمی نے اے ایف پی سے گفتگو میں فیصلے کو اختلافی آوازیں محدود کرنے کی کوشش قرار دیا۔ دوسری طرف علاقے کے بعض رہائشیوں نے پولیس اقدام کا خیرمقدم کیا۔ یوں فیصلے پر عوامی ردعمل یکساں نہیں۔ فی الحال مصدقہ پیش رفت احتجاجی مقام کی حیثیت کے خاتمے کا پولیس حکم ہے؛ احتجاج کے آئینی حق یا انتخابی تنازع پر کسی حتمی عدالتی فیصلے کی اطلاع اس رپورٹ میں نہیں دی گئی۔