بنکاک: اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام، یو این ڈی پی، نے ترقی پذیر ملکوں میں سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے نئے اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کی 14 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق یہ اعلان ایسے وقت میں کیا گیا جب کئی ملکوں کو ترقیاتی امداد میں کمی، توانائی کے زیادہ اخراجات اور موسمی خطرات کا سامنا ہے۔

یو این ڈی پی کے سربراہ الیگزینڈر ڈی کرو نے بنکاک میں عالمی مالیاتی اداروں کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر بتایا کہ ادارہ عالمی بینک کے ساتھ تعاون بڑھا رہا ہے۔ اس کے علاوہ یورپی بینک برائے تعمیر نو و ترقی، یورپی سرمایہ کاری بینک اور دیگر مالیاتی اداروں اور نجی سرمایہ کاروں کے ساتھ روابط کو بھی وسعت دی جا رہی ہے۔ مقصد ایسے منصوبوں کی مدد کرنا ہے جن سے حقیقی سرمایہ کاری اور ملازمتیں پیدا ہوں۔

ڈی کرو کے مطابق ترقی پذیر ممالک کو بہتر حکمرانی، قانون کی بالادستی اور مقامی آمدن بڑھانے کے لیے اصلاحات کرنا ہوں گی، لیکن وبا کے بعد یکے بعد دیگرے پیدا ہونے والے بحرانوں نے ان اصلاحات کی رفتار کم کی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بلند شرح سود، مہنگی توانائی اور شدید موسمی حالات کمزور معیشتوں کے لیے مشکلات میں اضافہ کر رہے ہیں۔

یو این ڈی پی کے مطابق آئندہ دس برس میں تقریباً ایک ارب بیس کروڑ نوجوان روزگار کی منڈی میں داخل ہو سکتے ہیں، جبکہ موجودہ امکانات کے مطابق صرف چالیس کروڑ ملازمتیں دستیاب ہونے کا اندازہ ہے۔ اسی فرق کو کم کرنے کے لیے ایک اقدام سرمایہ کاری کی پالیسی، قواعد اور قابل عمل منصوبوں پر توجہ دے گا؛ دوسرا ایسے شعبوں کی شناخت کرے گا جہاں زیادہ روزگار پیدا ہونے کی گنجائش ہے اور ہنرمندی کو آجروں کی ضروریات سے جوڑا جا سکے۔

ادارے نے بتایا کہ عالمی بینک کے ساتھ اشتراک کے تحت نیپال، یمن، ہیٹی، لبنان اور گھانا میں ابتدائی منصوبے جاری ہیں۔ یو این ڈی پی قدرتی آفات کے مالی خطرات کم کرنے کے لیے بیمے کی سہولتوں کو بھی اہم سمجھتا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2025 میں ایشیا میں قدرتی آفات سے 65 ارب ڈالر کے معاشی نقصانات ہوئے، جن میں صرف پانچ ارب ڈالر بیمہ شدہ تھے۔

ڈی کرو نے اس مرحلے پر وسیع قرض معافی کی بحث کو قبل از وقت قرار دیا اور کہا کہ پہلے نقدی اور مالی گنجائش کے فوری مسائل سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔ یہ اعلانات نئے اشتراک اور منصوبہ بندی سے متعلق ہیں؛ ان سے پیدا ہونے والی ملازمتوں یا حاصل ہونے والی سرمایہ کاری کی حتمی تعداد ابھی سامنے نہیں آئی۔