ریاض: سعودی عرب کے مشرقی شہر ظہران میں سرکاری تیل کمپنی آرامکو کے مرکزی دفاتر کو حوثیوں کے حملے میں نقصان پہنچا ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کی 14 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق دو علاقائی حکام نے بتایا کہ رات کے وقت ہونے والے حملے سے عمارت کی اوپری تین منزلیں متاثر ہوئیں، جن میں کمپنی کے اعلیٰ انتظامی عہدیداروں کے دفاتر بھی شامل ہیں۔ حکام نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر معلومات فراہم کیں۔ ان کے مطابق اس عمارت میں کسی ہلاکت یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں تھی۔

سعودی وزارت توانائی نے منگل کی رات آرامکو کی عمارت میں محدود آگ لگنے کی تصدیق کی تھی۔ حوثیوں نے اس سے پہلے ظہران کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کا انتباہ دیا تھا۔ خبر کے وقت تک آرامکو کی جانب سے اے پی کے سوالات کا فوری جواب سامنے نہیں آیا تھا، اس لیے عمارت کے مجموعی نقصان کی آزادانہ حتمی مالیت معلوم نہیں۔

سعودی قیادت والے اتحاد نے کہا کہ اس نے ریاض کی طرف آنے والے دو ڈرون، چار کروز میزائل اور ایک بیلسٹک میزائل کے علاوہ ظہران کی طرف ایک بیلسٹک میزائل اور الخرج کی طرف ایک کروز میزائل کو روکا۔ ریاض میں شہری دفاع کے مطابق روکے گئے حملے کے ملبے سے ایک شخص زخمی ہوا۔ یہ واقعہ ظہران کی عمارت پر حملے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہ ہونے سے الگ ہے۔

حوثی گروہ نے اپنے حملوں کو یمن کے دارالحکومت صنعا اور دوسرے علاقوں پر سعودی قیادت والے حملوں کا جواب قرار دیا ہے۔ یمن میں حوثیوں کے زیر انتظام وزارت صحت نے منگل کے حملوں میں دو افراد کی ہلاکت کا دعویٰ کیا، جس کی ذمہ داری سعودی کارروائیوں پر عائد کی گئی۔ فریقین کے دعووں اور آزادانہ تصدیق کے درمیان فرق برقرار رکھنا ضروری ہے۔

حالیہ لڑائی نے سعودی ہوائی اڈوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر دباؤ بڑھایا ہے۔ فضائی اعداد و شمار فراہم کرنے والی کمپنی سیریئم کے مطابق ایک ہفتے کے دوران سعودی ہوائی اڈوں سے روانگی کی تین ہزار سے زائد پروازیں منسوخ یا غیر فعال درج ہوئیں۔ اس سے سفر اور علاقائی کاروبار پر بھی اثر پڑا ہے۔

اے پی کے مطابق حوثی سیاسی نمائندے نے کہا کہ عمان نے دونوں جانب مذاکرات بحال کرانے کی کوشش کی ہے جبکہ روس اور چین نے بھی ایران کے ذریعے رابطے کیے۔ ابھی کسی جامع جنگ بندی کا اعلان نہیں ہوا۔ یمن میں امدادی اداروں نے لڑائی اور راستوں کی بندش کے باعث امداد کی ترسیل متاثر ہونے کی اطلاع دی ہے، جس سے کشیدگی کے انسانی نتائج بھی نمایاں ہیں۔