بلوچستان کے ضلع ڈیرہ بگٹی کے لوٹی علاقے میں مسلح افراد اور حکومت حامی قبائلی بگٹی پیس فورس کے درمیان جھڑپ میں پولیس کے مطابق آٹھ مشتبہ دہشت گرد ہلاک اور سات گرفتار ہوئے ہیں۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق جھڑپ میں امن فورس کا ایک رکن فضل خان بھی گولیوں کے زخموں سے جاں بحق ہوا جبکہ تین دیگر ارکان زخمی ہوئے۔ ہلاک اور گرفتار کیے گئے افراد کے بارے میں پولیس نے کالعدم تنظیم سے تعلق کا شبہ ظاہر کیا ہے، تاہم یہ شناخت اور وابستگی تفتیشی دعویٰ ہے اور عدالتی طور پر ثابت شدہ نتیجہ نہیں۔
ذرائع کے مطابق مسلح افراد نے ہفتے کی علی الصبح ڈیرہ بگٹی ضلع کونسل کے چیئرمین غلام نبی شمبانی کی رہائش گاہ اور لوٹی میں ایک گیس کمپنی کے کیمپ کو بھاری ہتھیاروں سے نشانہ بنایا۔ ان مقامات کی حفاظت پر تعینات بگٹی پیس فورس کے اہلکاروں نے پوزیشنیں سنبھال کر جوابی فائرنگ کی۔ رپورٹ کے مطابق فائرنگ کا تبادلہ ایک گھنٹے سے زیادہ جاری رہا اور دونوں جانب سے راکٹ سمیت بھاری ہتھیار استعمال ہوئے۔
ذرائع نے بتایا کہ ابتدائی جھڑپ کے بعد کچھ حملہ آور فرار ہو گئے لیکن بعد میں دوبارہ ضلعی کونسل چیئرمین کی رہائش گاہ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ پولیس حکام کے مطابق مجموعی طور پر آٹھ حملہ آور مارے گئے اور سات مشتبہ افراد کو امن فورس نے حراست میں لیا۔ لاشیں لوٹی اسپتال منتقل کی گئیں جبکہ زخمی امن فورس ارکان کو طبی امداد کے لیے اسپتال لے جایا گیا۔ پولیس نے کہا کہ واقعے کے بعد مزید کارروائی اور تفتیش جاری ہے۔
اسی روز خضدار ضلع کے نال علاقے میں الگ واقعات بھی رپورٹ ہوئے، جہاں قبائلی رہنما سردار غلام نبی سیاہ پاد نامعلوم موٹر سائیکل سوار حملہ آوروں کی فائرنگ سے جاں بحق ہوئے۔ ایک اور واقعے میں نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما اور سابق صوبائی وزیر سردار محمد اسلم بزنجو کی رہائش گاہ پر فائرنگ سے ایک سکیورٹی گارڈ زخمی ہوا؛ بزنجو اس وقت گھر میں موجود نہیں تھے۔ ان واقعات کی ذمہ داری کسی گروہ نے قبول نہیں کی اور پولیس نے تحقیقات شروع کر دی ہیں، اس لیے انہیں لوٹی کی جھڑپ سے بلا ثبوت منسلک نہیں کیا جا رہا۔
