ڈیرہ اسماعیل خان: خیبرپختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں سکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بنیاد پر کارروائی کے دوران تین دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا، سرکاری میڈیا نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے۔ کارروائی 5 اکتوبر کو ایسے وقت میں سامنے آئی جب ضلع اور صوبے کے دیگر جنوبی علاقوں میں دہشت گردی کے واقعات اور انسداد دہشت گردی کی کارروائیاں مسلسل جاری ہیں۔

رپورٹ میں ہلاک ہونے والوں کو ریاستی اصطلاح میں فتنہ الخوارج سے منسلک قرار دیا گیا، جو حکومت کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے وابستہ عناصر کے لیے استعمال کرتی ہے۔ دستیاب رپورٹ میں آپریشن کے مقام کی مزید تفصیلی جغرافیائی معلومات، برآمد ہونے والے اسلحے یا ہلاک افراد کی مکمل شناخت بیان نہیں کی گئی، اس لیے ان نکات پر غیر مصدقہ تفصیل شامل نہیں کی جا سکتی۔

صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے الگ الگ بیانات میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی کو سراہا۔ صدر نے کہا کہ مؤثر کارروائیاں دہشت گرد نیٹ ورکس کو کمزور کرنے میں کردار ادا کر رہی ہیں، جبکہ وزیراعظم نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ریاستی عزم کا اعادہ کیا۔ یہ سرکاری بیانات ہیں اور آپریشن کے آزادانہ زمینی شواہد رپورٹ میں فراہم نہیں کیے گئے۔

ڈیرہ اسماعیل خان حالیہ عرصے میں متعدد حملوں اور سکیورٹی آپریشنز کا مرکز رہا ہے۔ ایک روز قبل بھی ضلع میں ایک الگ انٹیلی جنس آپریشن میں آٹھ دہشت گردوں کی ہلاکت کی اطلاع دی گئی تھی۔ دونوں کارروائیاں الگ واقعات ہیں اور 5 اکتوبر کی کارروائی میں تین افراد کی ہلاکت کی اطلاع دی گئی ہے۔

خیبرپختونخوا میں سلامتی کی صورتحال وفاقی اور صوبائی سطح پر اہم پالیسی موضوع بنی ہوئی ہے۔ انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کے ساتھ حکومت سرحد پار دہشت گردی کے معاملے کو سفارتی سطح پر بھی اٹھا رہی ہے۔ تازہ آپریشن سے متعلق مزید تفصیلات اگر فوجی یا سرکاری اداروں کی جانب سے جاری کی جاتی ہیں تو ہلاک افراد کی شناخت اور کارروائی کے حالات زیادہ واضح ہو سکیں گے۔