اسلام آباد: پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے بیرون ملک میڈیکل اور ڈینٹل تعلیم حاصل کرنے کے خواہش مند پاکستانی طلبہ کے لیے میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج ایڈمیشن ٹیسٹ، یعنی MDCAT، پاس کرنے کی شرط ختم کر دی ہے۔ پی ایم ڈی سی کے مطابق فیصلہ کونسل کے 14 ستمبر کے اجلاس میں کیا گیا تھا اور اس سے متعلق باضابطہ نوٹس اب جاری کیا گیا ہے۔

نئے فیصلے کا تعلق ان طلبہ سے ہے جو پاکستان سے باہر کسی میڈیکل یا ڈینٹل ادارے میں تعلیم کے لیے جانا چاہتے ہیں۔ اس تبدیلی کا مطلب یہ نہیں کہ بیرون ملک حاصل کی جانے والی ہر میڈیکل ڈگری خودکار طور پر پاکستان میں تسلیم ہو جائے گی۔ طلبہ کو ادارے کی منظوری، رجسٹریشن اور وطن واپسی پر قابل اطلاق لائسنسنگ یا دیگر ضابطہ جاتی شرائط الگ سے دیکھنا ہوں گی۔

MDCAT پاکستان کے اندر میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں داخلے کے نظام کا اہم حصہ ہے۔ بیرون ملک تعلیم کے لیے اس امتحان کی شرط پر طلبہ اور والدین کی جانب سے طویل عرصے سے سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں، کیونکہ غیر ملکی جامعات کے اپنے داخلہ معیار اور امتحانی نظام ہوتے ہیں۔ پی ایم ڈی سی کے تازہ فیصلے سے بیرون ملک داخلہ لینے والے طلبہ کے لیے ایک ملکی پیشگی شرط کم ہو گئی ہے۔

تاہم طلبہ کے لیے سب سے اہم عملی پہلو یہ ہے کہ کسی بھی غیر ملکی یونیورسٹی میں داخلہ لینے سے پہلے اس کی موجودہ حیثیت اور پاکستان میں ڈگری کی قبولیت کے قواعد کی تصدیق کی جائے۔ مختلف ممالک، اداروں اور پروگراموں کے لیے ضابطے مختلف ہو سکتے ہیں اور وقت کے ساتھ تبدیل بھی ہوتے ہیں۔ صرف MDCAT کی شرط ختم ہونے کو باقی تمام ریگولیٹری تقاضوں سے استثنا نہیں سمجھا جا سکتا۔

پی ایم ڈی سی کا یہ فیصلہ طبی تعلیم کے لیے بیرون ملک جانے والے پاکستانی طلبہ کے داخلہ راستے میں ایک نمایاں تبدیلی ہے۔ آئندہ اس کے عملی اثرات طلبہ کی رجسٹریشن، بیرون ملک اداروں کے انتخاب اور پاکستان واپسی پر پیشہ ورانہ لائسنسنگ کے عمل میں سامنے آئیں گے، جن کے لیے کونسل کی تازہ ہدایات بنیادی حوالہ رہیں گی۔