اسلام آباد: پاکستان میں رواں سال پولیو کا چھٹا کیس خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر سے رپورٹ ہوا ہے۔ قومی ایمرجنسی آپریشنز سینٹر برائے انسداد پولیو کے مطابق متاثرہ بچہ سات سالہ لڑکا ہے جس کا تعلق تحصیل جمرود کی یونین کونسل غنڈی اے سے ہے۔

این ای او سی نے بتایا کہ نئے کیس کی تصدیق کے بعد پاکستان پولیو ایریڈیکیشن انیشی ایٹو نے تفصیلی کیس انویسٹی گیشن شروع کر دی ہے۔ حکام متاثرہ بچے، گھرانے اور علاقے سے متعلق ویکسینیشن ریکارڈ، وائرس کی ممکنہ گردش اور مقامی حفاظتی خلا کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ فوری ردعمل کی حکمت عملی بنائی جا سکے۔

حکام کے مطابق اضافی حفاظتی اقدامات کی منصوبہ بندی بھی کی جا رہی ہے جن میں نسبتاً زیادہ عمر کے بچوں تک رسائی، زبانی پولیو ویکسین کے ساتھ انجیکشن کے ذریعے دی جانے والی ویکسین کی فراہمی اور معمول کے حفاظتی ٹیکہ جات کے نظام کو مضبوط بنانا شامل ہے۔ مقصد یہ ہے کہ ایسے بچوں کو بھی کور کیا جائے جو پچھلی مہمات میں رہ گئے ہوں یا جن کی قوت مدافعت مطلوبہ سطح تک نہ پہنچی ہو۔

رواں سال سامنے آنے والے چھ میں سے پانچ پولیو کیس خیبر پختونخوا سے رپورٹ ہوئے ہیں، جبکہ ان میں سے چار کا تعلق بنوں ڈویژن سے ہے۔ تازہ کیس اس سال کے پانچویں کیس کی اطلاع سامنے آنے کے ایک ہفتے سے بھی کم عرصے بعد رپورٹ ہوا ہے، جس سے صوبے کے بعض اضلاع میں وائرس کی مسلسل گردش پر تشویش برقرار ہے۔

یہ پیش رفت ایک حالیہ ذیلی قومی پولیو مہم کے بعد سامنے آئی ہے جو 27 ستمبر کو مکمل ہوئی اور جس کے دوران 2 کروڑ 82 لاکھ سے زیادہ بچوں کو ویکسین دی گئی۔ تاہم خیبر پختونخوا کے بعض حصوں میں سکیورٹی مسائل، آبادی کی نقل و حرکت اور ویکسین سے انکار جیسے عوامل انسداد پولیو کی کوششوں کو پیچیدہ بناتے رہے ہیں۔

پولیو ایک انتہائی متعدی اور ناقابل علاج بیماری ہے جو مستقل فالج کا باعث بن سکتی ہے، تاہم ویکسین کے ذریعے اس سے بچاؤ ممکن ہے۔ پاکستان اور افغانستان دنیا کے وہ دو ممالک ہیں جہاں جنگلی پولیو وائرس اب بھی مقامی سطح پر موجود ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ہر بچے تک متعدد بار ویکسین پہنچانا وائرس کے خاتمے کے لیے بنیادی شرط ہے۔