ماسکو: افغانستان سے متعلق آٹھویں ماسکو فارمیٹ مشاورتی اجلاس میں پاکستان نے کہا ہے کہ دہشت گردی افغانستان اور پورے خطے کے استحکام کے لیے بنیادی چیلنج بنی ہوئی ہے، اور افغان حکام کو اپنی سرزمین پر سرگرم ان گروہوں کے خلاف ٹھوس اور قابلِ تصدیق کارروائی کرنا ہوگی جو ہمسایہ ممالک کے لیے خطرہ بنتے ہیں۔

پاکستان کے خصوصی نمائندہ برائے افغانستان محمد صادق نے 5 اکتوبر کو ماسکو میں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو گزشتہ چند برسوں میں سرحد پار دہشت گردی سے شدید نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ ان کے مطابق تین سال کے دوران دہشت گردی سے 4,700 سے زیادہ پاکستانی شہری اور سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے۔ یہ اعداد اور پاکستان کی جانب سے افغان سرزمین سے حملوں کے بارے میں عائد کیے گئے الزامات پاکستانی مؤقف کی نمائندگی کرتے ہیں۔

محمد صادق نے الزام عائد کیا کہ افغانستان میں بعض دہشت گرد گروہوں کو کارروائی کی آزادی حاصل ہے اور پاکستان کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی، مالی معاونت اور عملی تیاری افغان سرزمین سے کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی انسدادِ دہشت گردی کارروائیاں دفاعی، انٹیلی جنس بنیاد پر اور مخصوص اہداف تک محدود ہیں، اور اسلام آباد اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی قانون کے مطابق ضروری اقدامات جاری رکھے گا۔

انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ پاکستان افغانستان میں امن اور استحکام کو اپنے قومی مفاد میں سمجھتا ہے اور 2021 کے بعد سے افغان عوام کے لیے انسانی امداد، تجارتی و ٹرانزٹ سہولتوں اور علاقائی رابطہ منصوبوں میں تعاون کرتا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے باوجود انسدادِ دہشت گردی، خواتین اور لڑکیوں کے حقوق، تعلیم اور جامع طرزِ حکمرانی کے حوالے سے مطلوبہ پیش رفت نہیں ہوئی۔

اجلاس میں افغانستان اور خطے کی مجموعی صورتحال، علاقائی امن و سلامتی، انسدادِ دہشت گردی، اقتصادی تعاون اور رابطہ کاری پر غور کیا گیا۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افتتاحی نشست میں شرکت کی، جبکہ پاکستان کی نمائندگی محمد صادق کی قیادت میں وفد نے کی جس میں روس اور افغانستان میں پاکستان کے سفیر بھی شامل تھے۔

پاکستانی نمائندے نے علاقائی ممالک سے مشترکہ کوششوں کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں عدم استحکام، منشیات کی اسمگلنگ، غیر قانونی نقل مکانی، انسانی اسمگلنگ اور دہشت گردی جیسے مسائل کسی ایک ملک تک محدود نہیں رہتے۔ انہوں نے افغان حکام سے ان وعدوں پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا جو دہشت گرد گروہوں کو کسی دوسرے ملک کے خلاف افغان سرزمین استعمال نہ کرنے دینے سے متعلق عالمی برادری سے کیے گئے تھے۔