راولپنڈی: پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے یکم اکتوبر کو پریس کانفرنس میں بھارتی حکام اور میڈیا کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں ایک مبینہ کارروائی کے دوران محمد آصف نامی پاکستانی شخص کے مارے جانے کے دعوے کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے محمد آصف کو خود میڈیا کے سامنے پیش کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی بیانیہ حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔

پاکستانی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی ذرائع نے دعویٰ کیا تھا کہ 29 ستمبر کو مقبوضہ کشمیر کے کوراگ علاقے میں ایک کارروائی کے دوران ایک ایسا شخص مارا گیا جو اپریل 2025 کے پہلگام حملے سے مطلوب تھا اور اسے پاکستانی فوج یا اسپیشل سروسز گروپ سے جوڑا گیا تھا۔ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے اس دعوے کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ جس شخص کو مارے جانے کی خبر دی گئی، وہ زندہ ہے اور پریس کانفرنس میں موجود ہے۔

محمد آصف کے بارے میں پاکستانی رپورٹس میں بتایا گیا کہ وہ پاک فوج کے اسپیشل سروسز گروپ میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔ پاکستانی فوجی ترجمان نے بھارتی دعوے کو مبینہ طور پر غلط معلومات پھیلانے کی مثال قرار دیا۔ بھارتی حکام کی جانب سے سامنے آنے والے اصل دعوے اور پاکستانی فوج کے جواب کے درمیان بنیادی اختلاف اس شخص کی شناخت اور اس کے مبینہ طور پر مارے جانے سے متعلق ہے۔

یہ معاملہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر، سرحدی سلامتی اور دہشت گردی سے متعلق الزامات پر کشیدگی برقرار ہے۔ دونوں ممالک ایک دوسرے پر مختلف واقعات میں ملوث ہونے یا ان کی پشت پناہی کے الزامات لگاتے رہے ہیں، جن کی نوعیت اور شواہد پر دونوں فریقوں کے موقف میں نمایاں اختلاف پایا جاتا ہے۔

ڈان اور ایکسپریس ٹریبیون نے پریس کانفرنس کی رپورٹنگ کرتے ہوئے بتایا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھارتی دعوے کو رد کرنے کے لیے محمد آصف کو صحافیوں کے سامنے پیش کیا۔ پاکستانی حکام کا موقف ہے کہ یہ پیشی اس مخصوص دعوے کی تردید کرتی ہے کہ محمد آصف مذکورہ کارروائی میں مارے گئے تھے۔ تاہم پہلگام حملے، مبینہ روابط یا بھارتی سکیورٹی اداروں کی دیگر تحقیقات سے متعلق وسیع تر دعوے الگ معاملات ہیں اور ان کی آزادانہ جانچ اس پریس کانفرنس سے ممکن نہیں۔

اس خبر میں بھارتی الزامات اور پاکستانی تردید کو متعلقہ فریقوں سے منسوب کیا گیا ہے۔ دستیاب معلومات کی بنیاد پر صرف یہ بات براہِ راست ثابت ہوئی کہ پاکستانی فوجی ترجمان نے محمد آصف نامی شخص کو میڈیا کے سامنے پیش کر کے ان کے مارے جانے کے بھارتی دعوے کو چیلنج کیا۔