کوئٹہ: بلوچستان کے ضلع کچھی کے سنی علاقے میں سکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے چھ دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ یکم اکتوبر 2026 کو سرکاری ذرائع ابلاغ ریڈیو پاکستان اور ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ کارروائی مخصوص معلومات کی بنیاد پر کی گئی۔

رپورٹس کے مطابق کارروائی میں کواڈ کاپٹرز استعمال کیے گئے اور نشانہ بننے والے افراد کو ریاستی اصطلاح میں فتنہ الہندوستان سے وابستہ قرار دیا گیا۔ سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ کارروائی کے بعد ہلاک ہونے والے افراد کے قبضے سے بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا گیا۔ ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے فوری تصدیق دستیاب نہیں تھی، اس لیے ہلاکتوں اور وابستگی سے متعلق تفصیلات سرکاری مؤقف کے طور پر بیان کی جا رہی ہیں۔

اے پی پی کے مطابق کارروائی کے بعد علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری رکھا گیا تاکہ کسی ممکنہ باقی ماندہ مسلح فرد یا ٹھکانے کو تلاش کیا جا سکے۔ سرکاری ذرائع نے اس کارروائی کو ملک میں جاری انسداد دہشت گردی کی کوششوں اور عزم استحکام کے تحت جاری سکیورٹی اقدامات سے جوڑا۔

کچھی اور بلوچستان کے دیگر اضلاع میں حالیہ ہفتوں کے دوران متعدد انٹیلی جنس بنیاد پر کارروائیوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ستمبر میں بھی کچھی کے دھاڈر علاقے میں ایک علیحدہ کارروائی میں دو دہشت گردوں کی ہلاکت کی اطلاع دی گئی تھی، جبکہ پنجگور اور چاغی میں بھی سکیورٹی فورسز نے مختلف آپریشنز کیے تھے۔ تازہ واقعہ ان سابق کارروائیوں سے الگ اور یکم اکتوبر کو سنی علاقے میں ہونے والی نئی کارروائی ہے۔

ایکسپریس ٹریبیون نے بھی ریڈیو پاکستان کے حوالے سے چھ ہلاکتوں، کواڈ کاپٹرز کے استعمال اور اسلحہ برآمد ہونے کی تفصیلات رپورٹ کیں۔ سرکاری بیانات میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔ واقعے کے بارے میں کسی مسلح تنظیم کی جانب سے فوری طور پر کوئی تصدیق یا تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ سکیورٹی ذرائع نے کلیئرنس مرحلہ جاری رہنے کی اطلاع دی ہے۔