اسلام آباد: وفاقی حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی نے تحریک انصاف کے ساتھ مذاکرات کے لیے مشترکہ وفد تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایوانِ صدر کے مطابق یہ فیصلہ صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کی یکم اکتوبر کو ہونے والی ملاقات میں کیا گیا، جس میں ملک کی مجموعی سیاسی اور سکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اعلامیے کے مطابق حکومتی وفد جمعہ کو پی ٹی آئی کے نمائندوں سے ملاقات کرے گا۔ وفاقی حکومت کی جانب سے وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ اور وفاقی وزیر امیر مقام وفد کا حصہ ہوں گے، جبکہ پیپلز پارٹی کی نمائندگی سینیٹر شیری رحمان، سید نوید قمر اور اعجاز جاکھرانی کریں گے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت ہوئی ہے جب تحریک انصاف نے 4 اکتوبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا پروگرام دے رکھا ہے۔ پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا تھا کہ جماعت کو حکومت کی جانب سے مذاکرات کا پیغام موصول ہوا اور اپوزیشن رہنماؤں کی مشاورت کے بعد اسے قبول کیا گیا۔ ان کے مطابق حکومت اور اپوزیشن کے نمائندے جمعہ کو دوپہر کے وقت قومی اسمبلی کے اسپیکر کے دفتر میں ملاقات کریں گے۔

پی ٹی آئی نے اس سے پہلے اپنا مجوزہ لانگ مارچ 27 ستمبر سے مؤخر کر کے 4 اکتوبر کر دیا تھا۔ جماعت کا کہنا ہے کہ احتجاج کے اہم مطالبات میں اس کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائی اور آئینی بالادستی سے متعلق اس کے مؤقف کو آگے بڑھانا شامل ہے۔ حکومت نے ان مطالبات پر کوئی پیشگی نتیجہ ظاہر نہیں کیا، تاہم دونوں جانب سے بات چیت پر آمادگی ظاہر کی گئی ہے۔

صدر زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کی ملاقات میں خیبر پختونخوا کی سکیورٹی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا، جہاں پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت ہے۔ ایوانِ صدر کے بیان میں دہشت گردی کے خلاف قومی عزم اور متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر رابطے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

مذاکرات کے ایجنڈے کی مکمل تفصیل تاحال جاری نہیں کی گئی۔ دستیاب سرکاری اور جماعتی بیانات سے اتنا واضح ہے کہ ملاقات موجودہ سیاسی کشیدگی اور مجوزہ احتجاج کے پس منظر میں ہو رہی ہے۔ اس لیے مذاکرات کے ممکنہ نتائج، لانگ مارچ کے انعقاد یا اس میں کسی تبدیلی کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا۔