اسلام آباد: حکومت کی مجوزہ آٹو پالیسی 2026-31 کے مسودے میں گاڑیوں کی قیمتیں کم کرنے، درآمدی ٹیرف کو مرحلہ وار نیچے لانے اور مقامی صنعت میں مسابقت بڑھانے کے اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔ پالیسی سے متعلق بریفنگ میں حکام نے اندازہ ظاہر کیا ہے کہ بعض پلگ اِن ہائبرڈ گاڑیوں کی قیمتوں میں تقریباً 20 فیصد تک جبکہ پیٹرول اور عام ہائبرڈ گاڑیوں میں 8 سے 10 فیصد تک کمی ممکن ہو سکتی ہے۔

یہ تخمینے پالیسی کے مسودے اور مجوزہ ٹیرف تبدیلیوں پر مبنی ہیں، اس لیے انہیں حتمی مارکیٹ قیمتیں نہیں سمجھا جا سکتا۔ گاڑی کی اصل قیمت کمپنی کی لاگت، کرنسی کی شرح، ٹیکس، ڈیوٹیز، مقامی پرزوں کے استعمال اور مارکیٹ حکمت عملی سمیت متعدد عوامل سے متاثر ہوتی ہے۔ پالیسی ابھی منظوری کے مراحل میں ہے۔

مسودے میں مکمل تیار شدہ گاڑیوں یعنی CBU پر درآمدی ٹیرف کو بتدریج کم کرنے کی تجویز شامل ہے۔ حکومت کا مقصد مقامی اسمبلرز کو زیادہ مسابقت کا سامنا کرانا اور صارفین کے لیے انتخاب بڑھانا بتایا گیا ہے۔ تاہم مقامی پرزہ ساز صنعت نے اس عمل کی رفتار اور درآمدی مقابلے کے ممکنہ اثرات پر تحفظات ظاہر کیے ہیں۔

پالیسی میں مقامی سطح پر پرزہ سازی، نئی ٹیکنالوجی، برقی اور ہائبرڈ گاڑیوں، حفاظتی معیار اور برآمدات کو فروغ دینے کے اہداف بھی شامل کیے جا رہے ہیں۔ حکام کا مؤقف ہے کہ آٹو سیکٹر کو طویل مدت میں ایسی سمت دینا ضروری ہے جس میں صارفین کو بہتر قیمت اور معیار ملے، جبکہ صنعت عالمی سپلائی چین اور نئی توانائی ٹیکنالوجیز سے ہم آہنگ ہو۔

مقامی صنعت کے لیے سب سے اہم سوال یہ ہے کہ ٹیرف میں کمی کے ساتھ مقامی سرمایہ کاری اور روزگار کا تحفظ کیسے کیا جائے۔ اگر درآمدی گاڑیاں تیزی سے سستی ہوتی ہیں تو مقامی اسمبلرز اور وینڈرز پر قیمت اور معیار بہتر کرنے کا دباؤ بڑھے گا، لیکن بہت تیز تبدیلی مقامی سپلائی چین کے لیے مشکلات بھی پیدا کر سکتی ہے۔

پالیسی کے حتمی اثرات وفاقی کابینہ کی منظوری، نافذ ہونے والے ٹیرف شیڈول اور صنعت کے ردعمل کے بعد سامنے آئیں گے۔ فی الحال قیمتوں میں 20 فیصد تک کمی ایک پالیسی تخمینہ ہے، حتمی اعلان یا تمام ماڈلز پر یکساں کمی نہیں۔