اسلام آباد: پاکستان کو قطر سے اکتوبر 2026 کا دوسرا مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کارگو موصول ہوگیا ہے، جس کے بعد درآمدی گیس کو ری گیسی فکیشن کے عمل سے گزار کر قومی گیس نظام میں شامل کیا جا رہا ہے۔ تازہ کھیپ ایسے وقت پہنچی ہے جب خطے میں جنگ کے باعث عالمی توانائی منڈی میں قیمتوں اور رسد دونوں پر دباؤ برقرار ہے۔

پاکستان اپنی گیس کی طلب پوری کرنے کے لیے مقامی پیداوار کے ساتھ درآمدی ایل این جی پر بھی انحصار کرتا ہے۔ قطر طویل مدتی معاہدوں کے تحت پاکستان کے اہم ایل این جی سپلائرز میں شامل ہے۔ موجودہ حالات میں معاہداتی کارگوز کی بروقت آمد اس لیے اہم ہے کہ اسپاٹ مارکیٹ میں گیس کی قیمتیں غیر معمولی سطح تک پہنچ سکتی ہیں اور اضافی خریداری قومی درآمدی بل پر بھاری اثر ڈال سکتی ہے۔

توانائی شعبے کے حکام کے مطابق ایل این جی کارگو ٹرمینل پر پہنچنے کے بعد اسے دوبارہ گیس میں تبدیل کرکے پائپ لائن نظام میں داخل کیا جاتا ہے۔ اس درآمدی گیس کی تقسیم بجلی گھروں، صنعت، کھاد کے شعبے اور دیگر صارفین کی ضرورت اور نظام میں دستیاب مجموعی مقدار کے مطابق کی جاتی ہے۔ مقامی قدرتی گیس کی پیداوار میں طویل مدتی کمی نے درآمدی سپلائی کی اہمیت میں اضافہ کیا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے تیل اور گیس کی بین الاقوامی منڈیوں کو متاثر کیا ہے۔ جہاز رانی کے راستوں، بیمہ لاگت اور ممکنہ رسدی رکاوٹوں کے خدشات نے اسپاٹ ایل این جی کی قیمتوں کو بھی حساس بنا دیا ہے۔ پاکستان جیسے درآمدی توانائی پر انحصار کرنے والے ملک کے لیے ایسی صورت حال میں پہلے سے طے شدہ معاہداتی سپلائی نسبتاً زیادہ اہم ہوجاتی ہے۔

حکومت کو ایک طرف گیس کی دستیابی برقرار رکھنے اور دوسری طرف درآمدی لاگت کو قابو میں رکھنے کا چیلنج درپیش ہے۔ اگر عالمی منڈی میں قیمتیں بلند رہتی ہیں تو اضافی اسپاٹ کارگو خریدنے کے فیصلے کا انحصار طلب، موجودہ ذخائر، مقامی پیداوار اور مالی گنجائش پر ہوگا۔

قطری کارگو کی آمد سے فوری طور پر قومی نظام میں درآمدی گیس کی دستیابی کو سہارا ملے گا، تاہم آنے والے ہفتوں میں مجموعی توانائی صورت حال کا دارومدار مزید طے شدہ کارگوز کی بروقت آمد اور عالمی مارکیٹ میں قیمتوں کے رجحان پر رہے گا۔ حکومت اور توانائی کمپنیاں رسد کے تسلسل اور صارفین کے لیے گیس کی فراہمی برقرار رکھنے کے لیے بین الاقوامی مارکیٹ کی نگرانی کر رہی ہیں۔