کراچی: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ نے 30 ستمبر 2026 کو ختم ہونے والی تیسری سہ ماہی میں مجموعی بنیاد پر 62.338 ملین روپے منافع رپورٹ کیا ہے، جبکہ گزشتہ سال کی اسی سہ ماہی میں کمپنی کو 1.278 ارب روپے کا خسارہ ہوا تھا۔ اس طرح تازہ نتائج میں کمپنی نے سالانہ بنیاد پر خسارے سے منافع کی طرف واپسی دکھائی ہے۔
مالی نتائج کے مطابق سہ ماہی مجموعی آمدن 102.733 ارب روپے رہی، جو گزشتہ سال کی اسی مدت میں 63.723 ارب روپے تھی۔ مجموعی منافع 33.044 ارب روپے اور آپریٹنگ منافع 12.777 ارب روپے رپورٹ ہوا، جبکہ گزشتہ سال اسی سہ ماہی میں آپریٹنگ منافع 6.114 ارب روپے تھا۔
فی حصص آمدن بنیادی اور diluted دونوں بنیادوں پر 0.01 روپے رہی، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں فی حصص 0.25 روپے خسارہ رپورٹ کیا گیا تھا۔ بورڈ نے اس سہ ماہی کے نتائج کے ساتھ کسی نقد ڈیویڈنڈ، بونس حصص یا رائٹ شیئرز کی سفارش نہیں کی۔
آمدن میں نمایاں اضافے اور آپریٹنگ منافع کی بہتری کے باوجود خالص منافع نسبتاً محدود رہا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپریٹنگ سطح کے بعد مالیاتی اخراجات، ٹیکس، گروپ کمپنیوں کے نتائج یا دیگر اشیا مجموعی bottom line پر اثرانداز ہوئی ہیں۔ ان عوامل کی مکمل تشریح کے لیے تفصیلی مالی بیانات اور متعلقہ نوٹس بنیادی حوالہ ہیں۔
پی ٹی سی ایل گروپ کی کارکردگی پاکستان کے ٹیلی کام شعبے میں فکسڈ لائن، براڈبینڈ، موبائل اور ڈیجیٹل خدمات کے رجحانات سے جڑی ہے۔ صارفین کی ڈیٹا طلب، نیٹ ورک سرمایہ کاری، توانائی اور مالیاتی لاگت، مسابقت اور ریگولیٹری ماحول کمپنی کے نتائج پر اثر ڈال سکتے ہیں۔
تازہ اعداد صرف ایک سہ ماہی کی غیر آڈٹ شدہ کارکردگی کی نمائندگی کرتے ہیں۔ پورے سال کی حتمی مالی تصویر باقی سہ ماہیوں، سرمایہ کاری، فنانسنگ اور گروپ کے دیگر کاروباری عوامل کے بعد واضح ہوگی۔
