کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ستمبر 2026 میں بیرون ملک مقیم پاکستانی کارکنوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر 4 ارب امریکی ڈالر سے تجاوز کرگئیں۔ ترسیلات زر پاکستان کے بیرونی کھاتے کے لیے ایک اہم ذریعہ ہیں اور ان میں اضافہ درآمدی ادائیگیوں، زرمبادلہ کی دستیابی اور گھریلو سطح پر لاکھوں خاندانوں کی آمدن کو سہارا دیتا ہے۔
مرکزی بینک کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ خلیجی ممالک، برطانیہ، امریکا اور دیگر بڑی منڈیوں میں مقیم پاکستانیوں کی جانب سے رقوم کی باقاعدہ ترسیل نے مجموعی ماہانہ حجم میں اہم کردار ادا کیا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات روایتی طور پر پاکستان کے لیے ترسیلات زر کے بڑے ذرائع میں شامل ہیں، جبکہ برطانیہ اور امریکا سے بھی قابل ذکر رقوم موصول ہوتی ہیں۔
حکومت اور اسٹیٹ بینک گزشتہ چند برسوں سے رسمی بینکاری اور ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے رقوم بھیجنے کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔ سرکاری چینلز کے استعمال میں اضافہ اس لیے بھی اہم ہے کہ اس سے غیر رسمی منڈی پر انحصار کم ہوتا ہے اور ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں آنے والی رقوم باقاعدہ مالیاتی نظام میں ریکارڈ ہوتی ہیں۔ شرح مبادلہ اور بینکاری سہولت کی دستیابی بھی تارکین وطن کے ترسیلی فیصلوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔
پاکستان کے لیے ترسیلات زر کی اہمیت موجودہ عالمی اور علاقائی غیر یقینی میں مزید بڑھ گئی ہے۔ توانائی کی بلند درآمدی لاگت اور بیرونی قرضوں کی ادائیگی کے دوران کارکنوں کی بھیجی ہوئی رقوم جاری کھاتے پر دباؤ کم کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ تاہم ماہانہ اعداد و شمار میں موسمی عوامل، مذہبی تہوار، میزبان ممالک کی معاشی سرگرمی اور کرنسی کی نقل و حرکت کے باعث اتار چڑھاؤ ہوسکتا ہے۔
گھریلو سطح پر ترسیلات زر خوراک، رہائش، تعلیم، صحت اور چھوٹے کاروبار سمیت مختلف اخراجات کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔ اس لیے ان میں اضافہ صرف بیرونی کھاتے تک محدود نہیں رہتا بلکہ مقامی کھپت اور خاندانوں کی مالی گنجائش پر بھی اثر ڈالتا ہے۔
ستمبر کے اعداد و شمار کے بعد توجہ آنے والے مہینوں پر ہوگی کہ آیا چار ارب ڈالر سے زیادہ کی ماہانہ سطح برقرار رہتی ہے یا نہیں۔ پائیدار اضافہ اس بات پر منحصر ہوگا کہ بیرون ملک روزگار، رسمی ترسیلی چینلز کی مسابقت، شرح مبادلہ اور میزبان معیشتوں کی کارکردگی کس سمت جاتی ہے۔
