وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان نے مالی نظم، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور مہنگائی کے دباؤ میں کمی کے ذریعے میکرو اکنامک استحکام کو مضبوط کیا ہے اور حکومت حالیہ سیلابی نقصانات کے باوجود تقریباً 3.5 فیصد معاشی شرحِ نمو برقرار رکھنے کا ہدف رکھتی ہے۔ یہ مؤقف سرکاری خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان نے 22 اکتوبر کو رپورٹ کیا۔

وزیر خزانہ کے مطابق حکومت کی توجہ اب قلیل مدتی استحکام کو پائیدار اور برآمدات پر مبنی نمو میں تبدیل کرنے پر ہے۔ پاکستان کی معیشت گزشتہ چند برسوں میں بلند مہنگائی، کم زرمبادلہ ذخائر، بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ اور کم سرمایہ کاری سے متاثر رہی، اس لیے حالیہ پالیسی کا بڑا حصہ مالی خسارے، محصولات اور بیرونی کھاتے کو قابو میں رکھنے پر مرکوز رہا ہے۔

3.5 فیصد شرحِ نمو ایک حکومتی ہدف ہے، حتمی نتیجہ نہیں۔ زرعی پیداوار پر سیلاب کے اثرات، عالمی تیل اور اجناس کی قیمتیں، توانائی کی لاگت، شرح سود اور برآمدی طلب مالی سال کی مجموعی کارکردگی کو تبدیل کر سکتے ہیں۔ اسی لیے ترقی کے سرکاری تخمینوں کا جائزہ قومی اکاؤنٹس اور بعد کے شماریاتی اعداد سامنے آنے پر کیا جاتا ہے۔

زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری بیرونی ادائیگیوں کے خطرے کو کم کرنے میں مدد دیتی ہے، لیکن پاکستان کو قرضوں کی بڑی ادائیگیوں اور درآمدی توانائی کی ضروریات کا سامنا رہتا ہے۔ اسی طرح مہنگائی میں گزشتہ بلند سطحوں سے کمی کے باوجود خوراک، بجلی اور ایندھن کی قیمتوں میں نئی تبدیلیاں صارفین کے لیے دباؤ پیدا کر سکتی ہیں۔ معاشی استحکام کو عام گھرانوں کی حقیقی آمدنی اور روزگار میں بہتری تک منتقل کرنا حکومت کے لیے اگلا بڑا چیلنج ہے۔

حکومت برآمدات، نجی سرمایہ کاری اور شعبہ جاتی اصلاحات کو نمو کا اہم ذریعہ قرار دے رہی ہے۔ عالمی مالیاتی ادارے بھی پاکستان کے لیے مالی نظم کے ساتھ ساختی اصلاحات، توانائی شعبے کی کارکردگی، ٹیکس بیس میں وسعت اور کاروباری ماحول بہتر بنانے پر زور دیتے رہے ہیں۔ 3.5 فیصد ہدف کی پائیداری اسی بات پر منحصر ہوگی کہ استحکام کے ساتھ سرمایہ کاری اور پیداواری صلاحیت کتنی تیزی سے بڑھتی ہے۔