اسلام آباد: بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے اپنی تازہ معاشی پیش گوئی میں کہا ہے کہ ایران جنگ اور اس سے پیدا ہونے والے علاقائی معاشی جھٹکوں کے باعث 2026 میں پاکستان کی معیشت 1.3 فیصد سکڑ سکتی ہے۔ فنڈ کے مطابق مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے وسیع خطے میں بھی پیداوار کو نمایاں نقصان پہنچنے کا امکان ہے، تاہم اگلے سال حالات بہتر ہونے کی صورت میں پاکستان میں تیز بحالی دیکھی جا سکتی ہے۔
آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے 2027 میں 6.6 فیصد معاشی نمو کی پیش گوئی کی ہے۔ یہ اندازہ اس مفروضے سے منسلک ہے کہ جنگ اور علاقائی تجارت و توانائی کی رسد پر پڑنے والے غیر معمولی دباؤ میں کمی آئے گی۔ اس لیے اگلے سال کی بلند شرح نمو کو یقینی نتیجہ نہیں بلکہ موجودہ حالات اور مفروضوں پر مبنی پیش گوئی سمجھا جائے گا۔
پاکستان کی معیشت پر علاقائی تنازع کے اثرات کئی راستوں سے منتقل ہو رہے ہیں۔ توانائی کی عالمی قیمتیں، تیل اور گیس کی درآمدی لاگت، بحری راستوں کی دستیابی، تجارت اور کاروباری اعتماد ایسے عوامل ہیں جو درآمدی ملک کے طور پر پاکستان کے مالی اور بیرونی کھاتوں پر دباؤ بڑھا سکتے ہیں۔ حکومت نے حالیہ مہینوں میں ایندھن کی قیمتوں کے تیز اتار چڑھاؤ کے جواب میں قیمتوں کے تعین کا دورانیہ مختصر کیا اور توانائی بچت کے اقدامات بھی اختیار کیے ہیں۔
آئی ایم ایف کی پیش گوئی ایسے وقت سامنے آئی ہے جب پاکستان کو ایک طرف مہنگی توانائی اور علاقائی غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے اور دوسری طرف مالی استحکام، ٹیکس اصلاحات اور بیرونی ادائیگیوں کے انتظام کو برقرار رکھنا ہے۔ حقیقی جی ڈی پی میں سکڑاؤ کا مطلب مجموعی معاشی سرگرمی میں کمی ہے، لیکن اس کے اثرات مختلف شعبوں، روزگار اور آمدنی پر یکساں نہیں ہوتے۔
اگلے سال کے لیے 6.6 فیصد بحالی کی پیش گوئی میں کم بنیاد کا اثر بھی اہم ہو سکتا ہے، کیونکہ ایک سال کی کمی کے بعد معمول کی سرگرمی بحال ہونے سے شرح نمو نسبتاً بلند دکھائی دے سکتی ہے۔ تاہم بحالی کی رفتار جنگ کے دورانیے، توانائی منڈی، علاقائی رسد، اندرونی معاشی پالیسی اور سرمایہ کاری کے ماحول سے متاثر ہوگی۔
فنڈ کی تازہ پیش گوئی پالیسی سازوں کے لیے اس خطرے کی نشاندہی کرتی ہے کہ بیرونی جغرافیائی سیاسی جھٹکے پاکستان کی داخلی معاشی منصوبہ بندی کو تیزی سے بدل سکتے ہیں۔ حتمی معاشی نتائج آنے والے مہینوں کے حقیقی اعداد و شمار اور علاقائی صورتحال سے واضح ہوں گے۔
