اسلام آباد: پاکستان یورپی یونین کی نئی جنرلائزڈ اسکیم آف پریفرنسز پلس، یعنی GSP+، کے تحت ترجیحی تجارتی سہولت کے لیے جنوری 2027 سے درخواست دینے کی تیاری کر رہا ہے۔ دی نیوز کی رپورٹ کے مطابق نئی اسکیم موجودہ ترجیحی تجارتی فریم ورک کے بعد نافذ ہونی ہے اور پاکستان کے لیے یورپی منڈی تک برآمدی رسائی برقرار رکھنا تجارتی پالیسی کی اہم ترجیح ہے۔

GSP+ کے تحت اہل ترقی پذیر ممالک کو متعدد مصنوعات پر یورپی یونین کی منڈی میں کم یا صفر درآمدی ڈیوٹی کی سہولت ملتی ہے، تاہم اس ترجیحی رسائی کے ساتھ انسانی حقوق، مزدور حقوق، ماحولیات، گورننس اور متعلقہ بین الاقوامی کنونشنز پر عمل درآمد سے متعلق شرائط بھی منسلک ہوتی ہیں۔ پاکستان کئی برسوں سے اس نظام سے فائدہ اٹھا رہا ہے اور یورپی یونین اس کی بڑی برآمدی منڈیوں میں شمار ہوتی ہے۔

نئی اسکیم کے لیے درخواست محض تجارتی دستاویز جمع کرانے کا عمل نہیں ہوگی بلکہ پاکستان کی جانب سے متعلقہ بین الاقوامی ذمہ داریوں پر عمل درآمد اور نگرانی کے نظام بھی یورپی اداروں کے جائزے کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اسی لیے وفاقی وزارتوں، صوبائی حکومتوں اور ان اداروں کے درمیان رابطہ اہم ہوگا جو مزدور، ماحول، انسانی حقوق اور گورننس سے متعلق کنونشنز پر عمل درآمد کے ذمہ دار ہیں۔

پاکستان کی ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی صنعت کے لیے یورپی منڈی خاص اہمیت رکھتی ہے۔ ترجیحی ٹیرف رسائی برقرار رہنے سے پاکستانی مصنوعات کو مسابقتی فائدہ مل سکتا ہے، جبکہ کسی رکاوٹ یا عدم اہلیت کی صورت میں برآمدی لاگت اور یورپی خریداروں کے فیصلوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔ تاہم درخواست دینے کا اعلان خود بخود منظوری کے مترادف نہیں؛ حتمی اہلیت یورپی یونین کے متعلقہ عمل اور شرائط کے جائزے کے بعد طے ہوگی۔

حکومت کے لیے اگلا مرحلہ درخواست کی تیاری، مطلوبہ قانونی اور انتظامی پیش رفت کا ریکارڈ مرتب کرنا اور یورپی شراکت داروں کے ساتھ رابطہ برقرار رکھنا ہوگا۔ کاروباری برادری بھی اس عمل کو قریب سے دیکھے گی کیونکہ یورپی یونین کے ساتھ ترجیحی تجارت پاکستان کی برآمدات، روزگار اور زرمبادلہ آمدن کے لیے اہم ہے۔ نئی اسکیم میں پاکستان کی پوزیشن کے بارے میں حتمی نتیجہ درخواست اور باضابطہ یورپی جائزے کے بعد ہی سامنے آئے گا۔