کوئٹہ: بلوچستان کے ضلع دکی میں ایک تعمیراتی کمپنی کے کیمپ سے اغوا کیے گئے گیارہ مزدور تقریباً دو ہفتے بعد رہا ہو گئے ہیں۔ صوبائی محکمہ داخلہ کے اعلیٰ حکام نے تصدیق کی ہے کہ رہائی پانے والے افراد محفوظ ہیں اور انہیں ایک محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب متاثرہ خاندانوں کے لیے مغویوں کی سلامتی سب سے بڑا سوال بنی ہوئی تھی۔
ڈان کی دس اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان کے ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ حمزہ شفقات نے مزدوروں کی رہائی کی تصدیق کی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 26 ستمبر کو ضلع دکی کے علاقے پالری میں تقریباً 40 سے 50 نامعلوم مسلح افراد نے ایس ایم سی کنسٹرکشن کمپنی کے کیمپ پر حملہ کیا تھا۔ حملہ آوروں نے کمپنی کی چار گاڑیوں کو آگ لگا دی اور بارہ مزدوروں کو اسلحے کے زور پر اپنے ساتھ لے گئے۔
اس حملے کے دوران ایک نجی سکیورٹی گارڈ ہلاک اور دوسرا زخمی ہوا تھا۔ واقعے کی اطلاع ملنے پر مقامی پولیس، فرنٹیئر کور اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار علاقے میں پہنچے اور تلاش کی کارروائی شروع کی۔ تاہم اغوا کیے گئے بارہ مزدوروں میں سے ایک، جس کی شناخت شاہد کے نام سے ہوئی، بعد میں قتل کر دیا گیا۔ اس کی لاش ضلع کوہلو کے علاقے سے ملی تھی۔
رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا کہ مغویوں کی رہائی کے لیے انتظامیہ نے قبائلی عمائدین کی مدد حاصل کی۔ ان عمائدین نے اغوا کاروں سے طویل مذاکرات کیے جس کے بعد باقی گیارہ مزدوروں کی رہائی ممکن ہوئی۔ حکام نے رہائی کی تصدیق کی ہے، البتہ مذاکرات کی تمام شرائط یا اغوا کاروں کی شناخت کے بارے میں قابل تصدیق تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔ اس لیے کسی ممکنہ معاہدے یا مالی ادائیگی کے بارے میں قیاس آرائی کرنا درست نہیں ہوگا۔
رہا ہونے والے گیارہ افراد میں سے دس کا تعلق پنجاب کے ضلع رحیم یار خان سے ہے، جبکہ ایک مزدور دکی کا رہائشی ہے۔ مزدوروں کی رہائی ان کے اہل خانہ کے لیے اہم خبر ہے، لیکن پہلے سے قتل ہونے والے مزدور اور سکیورٹی گارڈ کی ہلاکت اس واقعے کی سنگینی واضح کرتی ہے۔
دکی اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں تعمیراتی اور معاشی سرگرمیوں سے وابستہ کارکنوں کی حفاظت ایک اہم انتظامی مسئلہ ہے۔ اس واقعے میں حملہ، گاڑیوں کو جلانا، اغوا اور قتل الگ الگ سنگین جرائم ہیں۔ رہائی کی تصدیق کے باوجود یہ واضح نہیں کہ حملے کے ذمہ دار افراد کو گرفتار کیا گیا ہے یا ان کے خلاف تحقیقات کس مرحلے میں ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے مزید مصدقہ معلومات سامنے آنے پر ہی ان معاملات کی حتمی صورت واضح ہو سکے گی۔
