اسلام آباد: کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے دو لاکھ ٹن چینی برآمد کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت 14 ستمبر کو ہونے والے اجلاس میں وزارت قومی غذائی تحفظ کی جانب سے چینی کی برآمد کی اجازت سے متعلق سمری پیش کی گئی، جس پر ای سی سی نے اسٹیئرنگ کمیٹی کی سفارشات منظور کر لیں۔

اجلاس میں واضح کیا گیا کہ برآمد کی اجازت ایسے حفاظتی انتظامات کے ساتھ دی گئی ہے جن کا مقصد مقامی منڈی میں چینی کی قیمتوں کو مستحکم رکھنا ہے۔ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ برآمدی کوٹہ کس مدت میں یا کن کمپنیوں کے ذریعے استعمال ہوگا، اس لیے اس مرحلے پر صرف منظور شدہ مقدار اور پالیسی شرط کی تصدیق کی جا سکتی ہے۔

ای سی سی کے اسی اجلاس میں شنگھائی تعاون تنظیم کے آئندہ کونسل اجلاس کے موقع پر سربراہانِ مملکت کے لیے محفوظ نقل و حمل کے انتظامات کے تحت 15 بلٹ پروف گاڑیوں کی خریداری کے لیے تین ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ بھی منظور کی گئی۔ اجلاس نے پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کی ملکیت اور انتظامی کنٹرول کی تنظیم نو کے لیے عمل درآمدی فریم ورک کی منظوری بھی دی۔

مزید برآں، موجودہ یا براؤن فیلڈ ریفائنریوں کی اپ گریڈیشن سے متعلق پاکستان آئل ریفائننگ پالیسی کے تحت ڈرافٹ اپ گریڈ ایگریمنٹ منظور کیا گیا، جبکہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے مالی معاملات اور مالی سال 2025-26 کے غیر ایڈجسٹ شدہ ان پٹ سیلز ٹیکس دعوؤں کے عبوری تصفیے کے لیے بھی ایک طریقہ کار کی منظوری دی گئی۔

چینی کی برآمد سے متعلق فیصلہ تجارتی پالیسی کے ساتھ ساتھ اندرونِ ملک دستیابی اور قیمتوں کے لیے بھی اہم ہے۔ ای سی سی نے اسی وجہ سے مقامی قیمتوں کے استحکام کے لیے حفاظتی شرائط پر زور دیا ہے۔ کسی بھی اضافی برآمدی کوٹے، برآمد کے عملی شیڈول یا مقامی قیمتوں پر اثرات کے بارے میں آئندہ تفصیل متعلقہ سرکاری اداروں کے مزید اعلانات سے واضح ہوگی۔