اسلام آباد: پاکستان کے مسابقتی کمیشن (سی سی پی) اور چین کی اسٹیٹ ایڈمنسٹریشن فار مارکیٹ ریگولیشن (ایس اے ایم آر) نے باہمی مسابقتی تعاون کے موجودہ فریم ورک کو عملی سطح پر آگے بڑھانے کے لیے تکنیکی اشتراک کے نئے شعبوں پر گفتگو کی ہے۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق سی سی پی کے چیئرمین فرید احمد تارڑ اور ایس اے ایم آر کے نائب وزیر شو وی کے درمیان چین کے شہر شی آن میں ملاقات ہوئی، جہاں 2024 میں طے پانے والے اینٹی مونوپولی تعاون کے مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد مرکزی موضوع رہا۔

دونوں اداروں نے کارٹل کی نشاندہی، مرجر کنٹرول، ڈیجیٹل مارکیٹس، مارکیٹ انٹیلی جنس، معاشی تجزیے، مسابقتی وکالت، عملے کے تبادلوں اور ادارہ جاتی صلاحیت کی تعمیر میں تعاون کے امکانات کا جائزہ لیا۔ سی سی پی کے مطابق پاکستان چین کے تجربے سے تکنیکی تربیت، ماہرین کے تبادلے، ورکشاپس اور علم کے اشتراک کے ذریعے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔

جون 2024 میں طے پانے والا مفاہمتی یادداشت سی سی پی کی 16 سالہ تاریخ کا پہلا بین الاقوامی ایم او یو تھا۔ اس کے تحت باقاعدہ دوطرفہ اجلاس، تربیتی پروگرام، تحقیقی تعاون اور معلومات کے تبادلے کے لیے ادارہ جاتی بنیاد قائم کی گئی تھی۔ حالیہ ملاقات کو اسی فریم ورک کو محض رسمی سطح سے عملی تعاون کی طرف منتقل کرنے کی کوشش کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

ڈیجیٹل مارکیٹس کو مستقبل کے تعاون کا اہم میدان قرار دیا گیا ہے، کیونکہ مصنوعی ذہانت، الگورتھم، ڈیٹا پر مبنی کاروباری ماڈلز اور آن لائن پلیٹ فارمز روایتی مسابقتی نگرانی کے لیے نئے سوالات پیدا کر رہے ہیں۔ سی سی پی نے اپنی مارکیٹ انٹیلی جنس اور ڈیٹا پر مبنی نفاذ کی صلاحیت بہتر بنانے کی ضرورت بھی اجاگر کی۔

دونوں اداروں کے درمیان تعاون اکتوبر 2023 میں ایک چینی وفد کے پاکستان دورے کے بعد تیز ہوا تھا، جبکہ بعد میں وزیر اعظم شہباز شریف کے جون 2024 کے دورۂ چین کے موقع پر مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے۔ تازہ رابطے میں کسی نئے قانونی معاہدے، مشترکہ تفتیش یا مخصوص کمپنی کے خلاف کارروائی کا اعلان نہیں کیا گیا؛ گفتگو کا محور موجودہ ادارہ جاتی فریم ورک کو مؤثر بنانا تھا۔

سی سی پی کے مطابق مضبوط ضابطہ جاتی رابطہ دونوں ملکوں کے بڑھتے ہوئے تجارتی اور سرمایہ کاری تعلقات میں زیادہ شفاف اور قابل پیش گوئی مسابقتی ماحول کی حمایت کر سکتا ہے۔ تاہم تعاون کے آئندہ عملی مراحل، تربیتی شیڈول یا مشترکہ منصوبوں کی تفصیل متعلقہ اداروں کے آئندہ اعلانات سے واضح ہوگی۔