اسلام آباد: کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے پاکستان ٹیلی وژن کارپوریشن کے لیے مالی سال 2026-27 میں 13 ارب روپے کی ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ منظور کرلی ہے۔ کمیٹی نے ساتھ ہی وزارت اطلاعات و نشریات کو ہدایت کی ہے کہ پی ٹی وی کو طویل مدت میں مالی طور پر پائیدار اور اپنے اخراجات خود برداشت کرنے کے قابل بنانے کے لیے جامع روڈ میپ تیار کیا جائے۔

بزنس ریکارڈر کے مطابق گرانٹ وزارت خزانہ کی جانب سے سہ ماہی بنیاد پر جاری ہوگی اور ہر سہ ماہی میں 3.25 ارب روپے فراہم کیے جائیں گے۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے وزارت اطلاعات سے کہا ہے کہ مالی خودکفالت کا منصوبہ ستمبر 2026 کے اختتام تک کمیٹی کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ سرکاری نشریاتی ادارے کے اخراجات، آمدن اور مستقبل کے مالی انتظام کا جائزہ لیا جا سکے۔

ای سی سی نے وزارت اطلاعات و نشریات کی 31 جولائی 2026 کو پیش کی گئی سمری پر غور کیا، جس میں مالی سال 2026-27 کے لیے پی ٹی وی کے حق میں 13 ارب روپے کی ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ کی درخواست کی گئی تھی۔ منظوری کے بعد رقم ایک ساتھ منتقل کرنے کے بجائے چار مساوی سہ ماہی اقساط میں جاری کرنے کا طریقہ اختیار کیا گیا ہے۔

کمیٹی کی ہدایت سے واضح ہے کہ موجودہ گرانٹ کو مستقل مالی ماڈل کا متبادل نہیں سمجھا جا رہا۔ پی ٹی وی ایک سرکاری ملکیتی نشریاتی ادارہ ہے اور اس کے مالی معاملات میں حکومتی معاونت کے ساتھ تجارتی آمدن، آپریشنل اخراجات اور ادارہ جاتی اصلاحات بھی اہم عوامل ہیں۔ ستمبر کے آخر تک طلب کیے گئے روڈ میپ سے یہ توقع کی جا رہی ہے کہ وزارت اطلاعات آمدن بڑھانے، اخراجات منظم کرنے اور حکومتی امداد پر انحصار کم کرنے کے قابل عمل اقدامات پیش کرے گی۔

موجودہ فیصلے میں روڈ میپ کے مخصوص اصلاحاتی اقدامات کی تفصیل سامنے نہیں آئی، اس لیے یہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ ادارے میں ملازمتوں، چینلز، اثاثوں یا پروگرامنگ سے متعلق کوئی مخصوص تبدیلی پہلے ہی منظور ہو چکی ہے۔ تصدیق شدہ فیصلہ صرف 13 ارب روپے کی سالانہ گرانٹ، سہ ماہی اجرا اور مالی پائیداری کے منصوبے کی مقررہ ڈیڈ لائن سے متعلق ہے۔

روڈ میپ پیش ہونے کے بعد ای سی سی اس بات کا جائزہ لے سکے گی کہ پی ٹی وی کس مدت اور کن اقدامات کے ذریعے اپنے اخراجات کا بڑا حصہ خود پورا کر سکتا ہے۔ فی الحال منظور شدہ رقم مالی سال کے دوران ادارے کی ضروریات پوری کرنے کے لیے عبوری بجٹ معاونت فراہم کرے گی۔