کراچی: نیشنل بینک آف پاکستان نے عمران سرور کو ادارے کا نیا صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر مقرر کیے جانے کا اعلان کیا ہے۔ بینک کے مطابق عمران سرور کو پاکستان اور بین الاقوامی منڈیوں میں 36 سال سے زیادہ کا بینکاری تجربہ حاصل ہے اور وہ کارپوریٹ، ادارہ جاتی اور سرمایہ کاری بینکاری کے ساتھ کریڈٹ اور رسک مینجمنٹ کے شعبوں میں کام کر چکے ہیں۔
نیشنل بینک کی جانب سے جاری معلومات کے مطابق عمران سرور نے حالیہ عرصے میں یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ میں گروپ ایگزیکٹو رسک اینڈ کریڈٹ پالیسی اور چیف رسک آفیسر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ اس کردار میں ان کی ذمہ داریوں میں بینک کے رسک فریم ورک کو مضبوط بنانا اور کریڈٹ پالیسی کے نظام کو آگے بڑھانا شامل تھا۔
نیشنل بینک ملک کے بڑے سرکاری ملکیتی کمرشل بینکوں میں شامل ہے اور اس کی سرگرمیاں کارپوریٹ اور ریٹیل بینکاری سے لے کر سرکاری ادائیگیوں، تجارت، زرعی فنانس اور دیگر مالی خدمات تک پھیلی ہوئی ہیں۔ ایسے ادارے میں صدر اور چیف ایگزیکٹو کی تقرری انتظامی حکمت عملی، رسک مینجمنٹ، کاروباری نمو اور ریگولیٹری تعمیل کے لیے اہم سمجھی جاتی ہے۔
بینک نے نئے سربراہ کے تجربے کو ادارے کی قیادت، حکمت عملی اور رسک گورننس کے تناظر میں نمایاں کیا ہے۔ تاہم تقرری کے اعلان میں مستقبل کے لیے کسی مخصوص کاروباری ہدف، شاخوں کی تنظیم نو، ملازمتوں میں تبدیلی یا نئی سرمایہ کاری کا اعلان نہیں کیا گیا۔ اس لیے نئے چیف ایگزیکٹو کی تقرری سے متعلق تصدیق شدہ خبر کو مستقبل کی ممکنہ پالیسی تبدیلیوں سے الگ رکھنا ضروری ہے۔
عمران سرور کے سامنے سرکاری ملکیتی بینک کی حیثیت سے تجارتی کارکردگی اور عوامی مالیاتی کردار کے درمیان توازن برقرار رکھنے کا چیلنج ہوگا۔ ان کے سابقہ تجربے میں کریڈٹ اور رسک پالیسی نمایاں رہی ہے، جس سے توقع کی جا سکتی ہے کہ بینک کی رسک گورننس ان کی توجہ کے شعبوں میں شامل ہوگی، تاہم یہ عمومی پیشہ ورانہ تناظر ہے اور بینک نے اس حوالے سے کوئی مخصوص نئی پالیسی ابھی جاری نہیں کی۔
تقرری کے بعد ادارے کی آئندہ حکمت عملی اس وقت واضح ہوگی جب نیا انتظامی سربراہ کاروباری ترجیحات، مالی اہداف اور آپریشنل منصوبوں سے متعلق باضابطہ فیصلے سامنے لائے گا۔ فی الحال نیشنل بینک نے عمران سرور کی قیادت کا خیرمقدم کرتے ہوئے ان کے طویل بینکاری تجربے کو نمایاں کیا ہے۔




