اسلام آباد: وفاقی حکومت نے مالی شمولیت بڑھانے کے منصوبے کے تحت چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں اور زرعی شعبے کے لیے بینک فنانسنگ جون 2028 تک دو، دو کھرب روپے تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے ایکسیس ٹو فنانس اسٹیئرنگ کمیٹی کے چوتھے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے بینکوں اور متعلقہ اداروں سے کہا کہ صرف قرضوں کی منظوری کے بجائے اصل رقم کے اجرا اور معاشی سرگرمی تک رسائی پر توجہ دی جائے۔
اجلاس میں ایس ایم ایز، زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، برآمدات، قابل تجدید توانائی اور رہائشی فنانس سمیت ترجیحی شعبوں میں قرض تک رسائی کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ وزیر خزانہ کے مطابق پالیسی فریم ورک اسی وقت مؤثر ہوگا جب منظور شدہ قرض حقیقت میں کاروبار، کسان یا گھر خریدنے والے تک پہنچے اور سرمایہ کاری یا پیداواری سرگرمی میں تبدیل ہو۔
رپورٹ کے مطابق حکومت نے ایس ایم ای اور زرعی قرضوں کے موجودہ حجم کو جون 2028 تک دو کھرب روپے فی شعبہ کرنے کا ہدف رکھا ہے۔ اسی دوران وزیراعظم کے سستی رہائش پروگرام کے تحت ہاؤسنگ فنانس کا مجموعی حجم 351.3 ارب روپے تک پہنچنے کی اطلاع دی گئی۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ قرضوں کی منظوری اور عملی تقسیم کے درمیان فرق کو کم کیا جائے۔
مالی رسائی کا منصوبہ روایتی بینکاری سے کم فائدہ اٹھانے والے شعبوں کو رسمی قرض کے نظام سے جوڑنے کی کوشش ہے۔ پاکستان میں چھوٹے کاروبار اور کسان اکثر ضمانت، دستاویزات، شرح سود اور بینکوں کے رسک معیار کے باعث قرض تک محدود رسائی کی شکایت کرتے ہیں۔ حکومت کی جانب سے بڑے عددی اہداف مقرر کرنا پالیسی سمت واضح کرتا ہے، تاہم ان اہداف کا حصول بینکوں کی قرض دینے کی رفتار، قرض لینے والوں کی اہلیت اور معاشی حالات پر منحصر رہے گا۔
اجلاس میں پیش کیے گئے اہداف مستقبل کی فنانسنگ کے منصوبے ہیں، انہیں پہلے سے تقسیم شدہ قرض نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ اسی طرح ہاؤسنگ فنانس کے اعداد پروگرام کی مجموعی پیش رفت ظاہر کرتے ہیں، جبکہ ہر منظور شدہ درخواست کے اجرا کی حیثیت مختلف ہو سکتی ہے۔ حکومت نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ اعداد کی نگرانی کے ساتھ حقیقی ڈسبرسمنٹ اور معاشی اثر کو مرکزی پیمانہ بنایا جائے۔




