کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان (ٹی سی پی) کے پاس موجود ایک لاکھ آٹھ ہزار میٹرک ٹن چینی بین الاقوامی ٹینڈر کے ذریعے برآمد کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ سرکاری اعلان کے مطابق یہ فیصلہ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیرِ صدارت اسلام آباد میں فنانس ڈویژن میں ہونے والے اجلاس میں کیا گیا۔

سرکاری تفصیلات کے مطابق برآمد کے لیے مختص کی گئی یہ چینی اُن تین لاکھ میٹرک ٹن کا حصہ ہے جو حکومت نے گزشتہ برس شوگر سے متعلق اسٹیئرنگ کمیٹی کی سفارش پر درآمد کی تھی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ برآمدی عمل پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی یعنی پی پی آر اے رولز 2004 کے تحت شفاف طریقے سے مکمل کیا جائے گا۔

بین الاقوامی ٹینڈر کا طریقہ کار اختیار کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ذخیرہ شدہ چینی کی فروخت کھلے مقابلے کے ذریعے ہو اور بہترین دستیاب قیمت حاصل کی جا سکے۔ سرکاری خریداری کے قواعد کے تحت ایسے ٹینڈرز میں شرائط پہلے سے شائع کی جاتی ہیں اور بولیاں مقررہ تاریخ پر کھولی جاتی ہیں۔

پاکستان میں چینی کی درآمد اور برآمد کا معاملہ گزشتہ چند برسوں سے پالیسی بحث کا موضوع رہا ہے۔ ملکی پیداوار، گنے کی امدادی قیمت، ذخیرہ اندوزی کی شکایات اور مقامی مارکیٹ میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے باعث حکومت کو وقتاً فوقتاً درآمد یا برآمد کی اجازت دینا پڑتی ہے۔ ماہرین کے مطابق ایسے فیصلوں میں توازن رکھنا ضروری ہوتا ہے تاکہ مقامی صارفین کے لیے رسد متاثر نہ ہو۔

سرکاری مؤقف کے مطابق یہ مقدار سرپلس یعنی ضرورت سے زائد ذخیرے کا حصہ ہے، اس لیے اس کی برآمد سے مقامی طلب پر اثر پڑنے کا امکان نہیں۔ تاہم اس نوعیت کے فیصلوں کے اثرات عام طور پر آنے والے مہینوں میں مقامی قیمتوں اور اسٹاک کی صورت حال سے ہی واضح ہوتے ہیں۔

اس رپورٹ میں شامل تمام اعداد و شمار اور تفصیلات سرکاری اعلان اور معتبر ذرائع ابلاغ کی اطلاعات پر مبنی ہیں۔ ٹینڈر کی تاریخ، حاصل ہونے والی قیمت اور خریدار ممالک سے متعلق تفصیلات بعد میں سامنے آئیں گی۔ اردو ہیڈ لائنز ڈیسک اس معاملے پر نظر رکھے ہوئے ہے اور نئی مصدقہ تفصیلات پر رپورٹ اپ ڈیٹ کی جائے گی۔