سینٹرل ڈائریکٹوریٹ آف نیشنل سیونگز نے مالی سال 2026-27 کے لیے بچتوں کی وصولی کا ہدف 1.53 ٹریلین روپے مقرر کر دیا ہے۔ ادارے کے مطابق مقصد گھریلو بچت کی بنیاد وسیع کرنا، محفوظ سرمایہ کاری کے مزید مواقع فراہم کرنا اور زیادہ لوگوں کو باقاعدہ مالی نظام میں شامل کرنا ہے۔ قومی بچت کی اسکیمیں حکومت کے لیے اندرونِ ملک وسائل جمع کرنے کا ایک ذریعہ بھی ہیں۔
گزشتہ مالی سال 2025-26 میں قومی بچت نے یکم جولائی 2025 سے 30 جون 2026 تک مجموعی طور پر 1.384 ٹریلین روپے جمع کیے اور اپنا سالانہ ہدف مکمل کیا۔ حکام نے اس کارکردگی کو حکومت کی پشت پناہی والی کم خطرے کی بچت اسکیموں میں عوامی دلچسپی اور اعتماد سے منسلک کیا ہے، تاہم موجودہ مالی حالات میں نئی وصولیوں کی رفتار منافع کی شرح، مہنگائی اور دوسرے سرمایہ کاری ذرائع سے مقابلے پر بھی منحصر رہے گی۔
قومی بچت کے حکام کے مطابق نئی حکمتِ عملی میں گھرانوں میں منظم بچت کی عادت بڑھانے، طویل مدتی مالی منصوبہ بندی کی حوصلہ افزائی اور خدمات تک رسائی بہتر بنانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔ ادارہ اپنی ملک گیر شاخوں اور سروس نظام کو بھی بہتر بنانے کا ارادہ رکھتا ہے تاکہ سرکاری بچت مصنوعات تک رسائی آسان ہو۔
اسلامی بچت مصنوعات بھی مجموعی منصوبے کا حصہ ہیں۔ مالی سال 2025-26 کے لیے شریعہ کے مطابق بچت ذرائع کا ہدف 60 ارب روپے رکھا گیا تھا۔ اس سے ایسے سرمایہ کاروں کو متبادل فراہم کرنا مقصود ہے جو سود سے پاک یا شریعہ سے ہم آہنگ سرکاری بچت مصنوعات چاہتے ہیں۔ مالی سال 2024-25 میں مجموعی ہدف 1.65 ٹریلین روپے تھا، جس میں اسلامی مالیاتی مصنوعات کے لیے 170 ارب روپے مختص کیے گئے تھے۔
قومی بچت کی سابقہ کارکردگی میں سال بہ سال فرق رہا ہے۔ مالی سال 2023-24 میں 1.742 ٹریلین روپے جمع ہوئے جو 1.7 ٹریلین روپے کے ہدف سے زیادہ تھے، جبکہ مالی سال 2022-23 میں 1.6 ٹریلین روپے کا ہدف حاصل کیا گیا۔ مالی سال 2021-22 میں بہتر حالات اور توقع سے زیادہ وصولیوں کے بعد ابتدائی 1.3 ٹریلین روپے کا ہدف بڑھا کر 1.4 ٹریلین روپے کیا گیا تھا۔
ادارے نے اصلاحات، عملی کارکردگی میں بہتری، ڈیجیٹل تبدیلی اور صارف پر مبنی اقدامات کو مسلسل وصولیوں کی اہم وجوہ قرار دیا ہے۔ نیا 1.53 ٹریلین روپے کا ہدف ایک پالیسی ہدف ہے، ضمانت شدہ نتیجہ نہیں؛ اس کی حقیقی پیش رفت مالی سال کے دوران جاری ہونے والے وصولی اعداد سے واضح ہوگی۔




