وفاقی حکومت نے پاکستان میں طویل مدتی سرمایہ کاری کے لیے قومی نجی ایکویٹی پالیسی فریم ورک تیار کرنے کا باقاعدہ عمل شروع کر دیا ہے۔ وزیراعظم کی قائم کردہ کمیٹی کے پہلے اجلاس کی صدارت وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کی۔ اجلاس کا بنیادی مقصد ایسا پالیسی ڈھانچہ بنانا ہے جو مقامی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لیے واضح قواعد فراہم کرے اور نجی ایکویٹی کے ذریعے طویل مدت کے سرمائے کی فراہمی آسان بنائے۔

کمیٹی نے نجی ایکویٹی کو کاروباری توسیع، نئی پیداواری صلاحیت، کمپنیوں کی مسابقت اور ترجیحی شعبوں تک سرمایہ پہنچانے کے ایک ممکنہ ذریعے کے طور پر دیکھا۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ فریم ورک کی قیادت نجی شعبہ کرے گا، جبکہ حکومت کا کردار سازگار ماحول، ضابطہ جاتی وضاحت اور پالیسی یا ٹیکس سے متعلق رکاوٹیں کم کرنے تک محدود ہوگا۔ وزیر خزانہ نے واضح کیا کہ منصوبے کا مقصد کمپنیوں یا فنڈز کو براہِ راست سرکاری سرمایہ دینا نہیں ہے۔

اجلاس میں موجودہ نجی ایکویٹی نظام، فنڈز کے لیے ٹیکس سلوک اور طویل مدتی سرمایہ دوبارہ لگانے کی گنجائش کا جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی نے یہ بھی دیکھا کہ پنشن فنڈز، بیمہ کمپنیوں اور دوسرے ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کو مناسب حفاظتی ضوابط کے ساتھ پیشہ ورانہ طور پر چلائے جانے والے فنڈز میں کس طرح شامل کیا جا سکتا ہے۔ بین الاقوامی معیارات سے ہم آہنگی اور سرمایہ کاروں کے تحفظ کو پالیسی تیاری کا لازم حصہ قرار دیا گیا۔

نجی ایکویٹی کے ممکنہ استعمال میں انضمام و خریداری، کاروباری تنظیمِ نو، نجکاری اور دوسرے طویل مدتی منصوبے شامل کیے گئے ہیں۔ کمیٹی کے مطابق صرف سرمایہ دستیاب ہونا کافی نہیں؛ سرمایہ کاروں کے سامنے ایسے کاروباری منصوبے اور منصوبہ جاتی خاکے بھی ہونے چاہییں جو مالی، عملی اور انتظامی اعتبار سے قابلِ عمل ہوں۔ اسی لیے قابلِ سرمایہ کاری منصوبوں کی واضح فہرست تیار کرنے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

کام آگے بڑھانے کے لیے چار تخصصی ورک اسٹریم قائم کرنے پر اتفاق ہوا ہے۔ یہ گروپ ٹیکس، ضابطہ جاتی فریم ورک، کاروباری حکمتِ عملی اور قابلِ سرمایہ کاری منصوبوں کی شناخت پر سفارشات تیار کریں گے۔ تمام سفارشات کو یکجا کرکے قومی نجی ایکویٹی پالیسی فریم ورک کی شکل دی جائے گی اور پھر وزیراعظم کو غور کے لیے پیش کیا جائے گا۔

یہ مرحلہ پالیسی کی تیاری کا آغاز ہے، حتمی منظوری یا نفاذ نہیں۔ اس لیے سرمایہ کاری حجم، مخصوص مراعات یا ٹیکس تبدیلیوں کے بارے میں ابھی کوئی حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔ آئندہ سفارشات اور سرکاری منظوری سے واضح ہوگا کہ مجوزہ ڈھانچہ عملی طور پر کن فنڈز، سرمایہ کاروں اور شعبوں پر لاگو ہوگا۔