اسلام آباد: وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے مختلف سرکاری ضروریات اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے مجموعی طور پر تقریباً 380 ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹس کی منظوری دے دی ہے۔ اجلاس کی صدارت وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کی۔ منظور شدہ رقوم میں سب سے بڑا حصہ آبی وسائل کے منصوبوں کے لیے مختص کیا گیا، جبکہ دفاعی ضروریات کے لیے بھی بڑی رقم کی منظوری دی گئی۔
سرکاری فیصلوں کے مطابق وزارت آبی وسائل سے متعلق منصوبوں کے لیے تقریباً 275 ارب روپے کی گرانٹ منظور کی گئی۔ اس رقم کا مقصد جاری اہم آبی انفراسٹرکچر اور ڈیم منصوبوں کی مالی ضروریات پوری کرنا ہے۔ پاکستان میں بڑے آبی منصوبوں کی تکمیل کے لیے وفاقی بجٹ، ترقیاتی پروگرام اور اضافی مالی منظوریوں کے امتزاج سے فنڈنگ کی جاتی ہے، اور حالیہ منظوری اسی سلسلے کا حصہ ہے۔
اقتصادی رابطہ کمیٹی نے مسلح افواج کی مختلف ضروریات کے لیے تقریباً 84 ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ بھی منظور کی۔ اس کے علاوہ دیگر وزارتوں اور سرکاری اداروں کے لیے نسبتاً کم مالیت کی اضافی رقوم کی منظوری دی گئی۔ تکنیکی ضمنی گرانٹس عام طور پر اس وقت استعمال کی جاتی ہیں جب کسی منظور شدہ بجٹ مد میں دستیاب رقم کو فوری یا اضافی ضرورت کے مطابق دوبارہ مختص کرنا مقصود ہو۔
اجلاس میں مالی نظم و ضبط اور ترجیحی اخراجات کے تناظر میں مختلف تجاویز کا جائزہ لیا گیا۔ حکومت ایسے وقت میں اضافی رقوم کی منظوری دے رہی ہے جب اسے ترقیاتی اخراجات، قرضوں کی ادائیگی اور مالی خسارے کو محدود رکھنے کے اہداف میں توازن قائم کرنا ہے۔ وزارت خزانہ کی سطح پر ان فیصلوں کا اثر مجموعی وفاقی اخراجات اور بجٹ کے اندر دستیاب مالی گنجائش پر پڑتا ہے۔
اقتصادی رابطہ کمیٹی وفاقی حکومت کا اہم معاشی فیصلہ ساز فورم ہے جو توانائی، خوراک، تجارت، مالی معاونت اور سرکاری اداروں سے متعلق فوری نوعیت کے معاملات پر فیصلے کرتا ہے۔ حالیہ منظوریوں کے بعد متعلقہ وزارتیں قواعد اور مالی طریقہ کار کے مطابق مختص رقوم استعمال کر سکیں گی۔
