اسلام آباد: وفاقی حکومت نے مقامی طور پر پیدا ہونے والی مائع پٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی تقسیم کے پرانے کوٹہ نظام کو ختم کرکے مسابقتی اور شفاف نیلامی کا طریقہ اختیار کرنے کا اعلان کیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں کہا کہ نئی پالیسی کا مقصد ایل پی جی شعبے میں طویل عرصے سے موجود اجارہ داری اور غیر شفاف تقسیم کے مسائل کو کم کرنا اور سردیوں میں توانائی کی دستیابی بہتر بنانا ہے۔
نئے انتظام کے تحت مقامی ریفائنریوں اور تیل و گیس پیدا کرنے والی کمپنیوں کی ایل پی جی پانچ اور دس ٹن کے لاٹس میں مسابقتی بولی کے ذریعے فروخت کی جائے گی۔ حکومتی مؤقف کے مطابق اس عمل کی نگرانی متعلقہ ریگولیٹری ادارے کریں گے اور نیلامی کے نتائج کو شفاف بنایا جائے گا۔ درآمدی کمپنیوں کو بھی مقررہ طریقہ کار پر عمل کرنا ہوگا اور ان سے ماہانہ خریداری لاگت، بین الاقوامی بینچ مارک، پریمیم اور فریٹ سے متعلق معلومات ظاہر کرنے کی توقع ہے۔
پیٹرولیم وزیر علی پرویز ملک نے اس سے قبل بتایا تھا کہ سرحدی راستوں میں خلل اور عالمی قیمتوں میں اضافے کے باعث بعض علاقوں میں ایل پی جی کی قیمتیں سرکاری طور پر مقررہ سطح سے بہت اوپر چلی گئی ہیں۔ حکومت نے پاکستان اسٹیٹ آئل، پاکستان ایل این جی لمیٹڈ، ایس ایس جی سی ایل پی جی اور پارکو ایل پی جی سمیت سرکاری اداروں کو درآمدی انتظامات میں دوبارہ فعال کردار دینے کی ہدایت کی ہے تاکہ اضافی سپلائی دستیاب ہو سکے۔ نجی شعبے کو بھی درآمد کی اجازت برقرار رہے گی۔
حکومت کا منصوبہ ہے کہ مقامی ایل پی جی کی نیلامی سے حاصل ہونے والی اضافی آمدن کا ایک حصہ قیمتوں کے استحکام اور کمزور طبقوں کو سبسڈی دینے کے لیے استعمال کیا جائے۔ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے اہلیت معیار کے مطابق مستحق صارفین کو نسبتاً کم قیمت پر ایل پی جی فراہم کرنے کی تجویز بھی پالیسی کا حصہ ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن نے اس سے قبل واضح کیا تھا کہ مقامی ایل پی جی کی مسابقتی تقسیم کا مقصد چند مارکیٹ کھلاڑیوں کے ہاتھ میں رسد کے ارتکاز کو کم کرنا اور صنعت کے لیے یکساں مواقع پیدا کرنا ہے۔
وزیراعظم نے کابینہ کو بتایا کہ حکومت سردیوں میں ایل این جی، ایل پی جی اور تیل کی ضروریات کا مسلسل جائزہ لے رہی ہے اور توانائی کی فراہمی برقرار رکھنے کے لیے وقفے وقفے سے اجلاس کیے جا رہے ہیں۔ پالیسی پر عمل درآمد کی کامیابی کا انحصار بروقت درآمدات، ذخیرہ اندوزی اور کارٹلائزیشن کے خلاف مؤثر نگرانی، محفوظ سلنڈر اور ٹرانسپورٹ معیار، اور مستحق صارفین تک سبسڈی کی شفاف ترسیل پر ہوگا۔
