اسلام آباد: سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے مطابق اکتوبر 2026 کے دوران 5,003 نئی کمپنیاں رجسٹر ہوئیں، جس کے بعد ملک میں رجسٹرڈ کمپنیوں کی مجموعی تعداد 321,794 تک پہنچ گئی۔ ریگولیٹر کے جاری کردہ اعداد کے مطابق نئی رجسٹریشنز میں سے 99.9 فیصد آن لائن مکمل کی گئیں، جو کارپوریٹ رجسٹریشن کے عمل میں ڈیجیٹل نظام کے بڑھتے استعمال کی عکاسی کرتی ہیں۔

کمپنیوں کی نوعیت کے اعتبار سے 55.4 فیصد نئی رجسٹریشنز پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنیوں کی تھیں، جبکہ 41.6 فیصد سنگل ممبر کمپنیوں پر مشتمل رہیں۔ اس کے علاوہ لمیٹڈ لائیبلٹی پارٹنرشپس، سیکشن 42 کے تحت غیر منافع بخش ادارے، چند پبلک اور غیر ملکی کمپنیاں اور ایک تجارتی تنظیم بھی رجسٹر ہوئیں۔

صوبائی اور علاقائی تقسیم میں پنجاب 2,663 نئی کمپنیوں کے ساتھ سب سے آگے رہا، جو اکتوبر کی مجموعی رجسٹریشنز کا 53 فیصد سے زیادہ بنتا ہے۔ اسلام آباد میں 934، سندھ میں 751، خیبر پختونخوا میں 382، گلگت بلتستان میں 162 اور بلوچستان میں 111 نئی کمپنیاں رجسٹر ہوئیں۔

شعبہ وار اعداد میں انفارمیشن ٹیکنالوجی نے 991 نئی کمپنیوں کے ساتھ پہلی پوزیشن حاصل کی۔ تجارت کے شعبے میں 767، خدمات میں 594، تعمیرات میں 295، خوراک و مشروبات میں 219، سیاحت میں 213 اور رئیل اسٹیٹ ڈیولپمنٹ میں 170 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں۔ ای کامرس، تعلیم، ٹیکسٹائل اور دیگر شعبوں میں بھی نئی کارپوریٹ رجسٹریشنز ریکارڈ کی گئیں۔

ایس ای سی پی کے مطابق نئی کمپنیوں میں 173 غیر ملکی سرمایہ کاروں نے ڈائریکٹر کے طور پر شرکت کی، جن میں چینی سرمایہ کاروں کی تعداد سب سے زیادہ تھی۔ خواتین کی شرکت شیئر ہولڈرز اور ڈائریکٹرز میں 13 فیصد، حتمی فائدہ اٹھانے والے مالکان میں 11 فیصد اور چیف ایگزیکٹو عہدوں میں 8 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

چیئرمین ایس ای سی پی ڈاکٹر کبیر احمد سدھو نے کمپنی رجسٹریشن میں اضافے کو کاروباری اور سرمایہ کاری سرگرمی سے جوڑتے ہوئے کہا کہ کمیشن کارپوریٹ تعمیل کے عمل کو مزید ڈیجیٹل بنا رہا ہے تاکہ کاروبار شروع کرنے اور چلانے کے طریقہ کار کو آسان بنایا جا سکے۔

یہ اعداد کمپنیوں کی رجسٹریشن کو ظاہر کرتے ہیں، نہ کہ لازماً ان تمام اداروں کی عملی کاروباری سرگرمی، ملازمتوں یا سرمایہ کاری کے حجم کو۔ اس کے باوجود ماہانہ رجسٹریشن ڈیٹا ملک کے رسمی کارپوریٹ شعبے میں نئے اداروں کی تشکیل اور شعبہ وار رجحانات کا ایک اہم اشاریہ فراہم کرتا ہے۔