قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی، ایکنک، کے اجلاس میں سڑکوں، بجلی کی تقسیم، پن بجلی، غربت میں کمی، تعلیم اور بنیادی سہولتوں سے متعلق متعدد ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لیا گیا۔ ایکسپریس اردو کے مطابق اجلاس کی صدارت نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کی۔ دستیاب رپورٹ میں بعض منصوبوں کے نظرثانی شدہ پی سی ون اور مجموعی پیش رفت زیرِ بحث آنے کا ذکر ہے، مگر ہر منصوبے کے لیے نئی حتمی منظوری یا رقم کی علیحدہ تفصیل نہیں دی گئی۔

اجلاس میں خوازہ خیلہ سے بشام ایکسپریس وے، لیسکو، حیسکو اور پیسکو کے تقسیم کار نظام میں بہتری، تربیلا پن بجلی منصوبے کی پانچویں توسیع، جنوبی پنجاب میں غربت میں کمی کے پروگرام اور فل برائٹ اسکالرشپ معاونت سمیت مختلف منصوبے زیرِ غور آئے۔ پانی، رابطہ سڑکوں اور دوسرے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں پر بھی بات ہوئی۔ یہ فہرست وفاقی ترقیاتی ترجیحات کے کئی شعبوں کو ظاہر کرتی ہے۔

ایکنک بڑے قومی ترقیاتی منصوبوں کی لاگت، دائرۂ کار، معاشی افادیت اور عمل درآمد کے فریم ورک کا جائزہ لینے والا اہم فورم ہے۔ نظرثانی شدہ پی سی ون عام طور پر اس وقت سامنے آتا ہے جب لاگت، مدت، ڈیزائن یا اہداف میں تبدیلی کی ضرورت ہو، لیکن ہر نظرثانی کا مطلب بے ضابطگی نہیں ہوتا۔ مہنگائی، زرمبادلہ، زمین، خریداری اور تکنیکی تبدیلیاں بھی لاگت اور مدت پر اثر ڈال سکتی ہیں۔

اسحاق ڈار نے متعلقہ وزارتوں اور اداروں کو وسائل کے مؤثر استعمال، بروقت تکمیل اور باہمی رابطے کی ہدایت کی۔ ایسی ہدایات کے عملی نتائج اس وقت سامنے آتے ہیں جب واضح سنگِ میل، ذمہ دار ادارے، فنڈ کی دستیابی اور نگرانی کا نظام موجود ہو۔ خاص طور پر بجلی کے تقسیم کار منصوبوں میں لائن لاسز، ترسیلی صلاحیت اور صارف خدمت جبکہ سڑکوں میں زمین، تعمیراتی رفتار اور حفاظتی معیار اہم پیمانے ہیں۔

رپورٹ سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا کہ تمام زیرِ بحث منصوبے اسی اجلاس میں مکمل طور پر منظور یا فنڈ کیے گئے۔ تصدیق شدہ پیش رفت اجلاس، منصوبوں کے جائزے اور بروقت عمل درآمد کی ہدایات تک محدود ہے۔ آئندہ سرکاری فیصلوں، منظور شدہ لاگت اور تکمیل کی تاریخوں سے ہر منصوبے کی حیثیت الگ واضح ہوگی۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک