جسٹس سید حسن اظہر رضوی نے وفاقی آئینی عدالتِ پاکستان کے قائم مقام چیف جسٹس کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے چیف جسٹس امین الدین خان کے بیرونِ ملک دورے کے دوران عارضی طور پر یہ ذمہ داری سنبھالی۔ عدالت میں منعقدہ تقریب میں جسٹس عامر فاروق نے ان سے عہدے کا حلف لیا۔

تقریب میں وفاقی آئینی عدالت کے ججوں، رجسٹرار، عدالتی افسران، وزارتِ قانون، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اور پاکستان بار کونسل کے نمائندوں نے شرکت کی۔ حلف کے بعد جسٹس رضوی نے قائم مقام سربراہ کی ذمہ داریاں سنبھالیں تاکہ آئینی مقدمات کی سماعت اور عدالت کے انتظامی کام میں تسلسل برقرار رہے۔

قائم مقام تقرری کی نوعیت عارضی ہے اور یہ چیف جسٹس امین الدین خان کی غیر موجودگی سے منسلک ہے۔ رپورٹ میں مستقل چیف جسٹس کی تبدیلی، نئی نامزدگی یا عدالتی ڈھانچے میں کسی اضافی ترمیم کا ذکر نہیں۔ اس لیے اسے ادارے کی معمول کی عبوری انتظامی ترتیب سمجھنا چاہیے، نہ کہ مستقل تقرری۔

اسی رپورٹ میں چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کی سول سروس اکیڈمی کے زیرِ تربیت افسران سے ملاقات کا بھی ذکر ہے۔ 54ویں کامن ٹریننگ پروگرام کے وفد کی قیادت اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل فرحان عزیز خواجہ نے کی۔ چیف جسٹس نے پارلیمانی جمہوریت، اختیارات کی تقسیم اور مقننہ، انتظامیہ و عدلیہ کے تکمیلی کردار پر بات کی۔

وفاقی آئینی عدالت کے قائم مقام سربراہ کے طور پر جسٹس رضوی کی ذمہ داری مقدمات اور انتظامی امور کا بلا تعطل سلسلہ برقرار رکھنا ہے۔ چیف جسٹس امین الدین خان کی واپسی یا کسی نئے سرکاری نوٹیفکیشن کے بعد عبوری انتظام کی مدت ختم ہوگی۔ فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت حلف اور ذمہ داریاں سنبھالنے تک محدود ہے۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک