سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ نئے صوبوں کی تشکیل کے لیے آئین میں واضح طریقہ کار موجود ہے اور اس کے سوا کوئی راستہ قابلِ قبول نہیں۔ ایکسپریس اردو کے مطابق انہوں نے کراچی میں بی آر ٹی ریڈ لائن منصوبے کے دورے کے موقع پر سیاسی اور ترقیاتی امور پر گفتگو کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کا مؤقف بیان کیا۔ یہ جماعت اور صوبائی وزیر کی پالیسی پوزیشن ہے، کسی نئے صوبے کے قیام یا آئینی ترمیم کا اعلان نہیں۔

شرجیل میمن نے کہا کہ متعلقہ صوبائی اسمبلی میں قرارداد اور منتخب نمائندوں کے ذریعے عوامی رائے کا اظہار آئینی عمل کا حصہ ہے۔ انہوں نے سڑکوں پر کیے جانے والے سروے کو اسمبلی میں عوامی نمائندگی کا آئینی متبادل ماننے سے انکار کیا۔ کسی نئے صوبے کی تشکیل کے لیے آئین کی متعلقہ شرائط، مطلوبہ اکثریت اور پارلیمانی عمل پورا کرنا ضروری ہوگا؛ محض سیاسی بیان سے انتظامی حدود تبدیل نہیں ہوتیں۔

دورے کے دوران انہیں بی آر ٹی ریڈ لائن کی پیش رفت پر بریفنگ بھی دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی روڈ کا تقریباً 80 فیصد کام مکمل ہوچکا ہے، جبکہ کے فور کی 2.7 کلومیٹر لائن پر واٹر بورڈ اور دوسرے ادارے کام کررہے ہیں۔ ان کے مطابق لائن مکمل ہونے کے بعد یونیورسٹی روڈ مکمل طور پر آمدورفت کے لیے کھولنے کا ہدف ہے۔ یہ تکمیل کے سرکاری دعوے اور اہداف ہیں؛ آزاد تعمیراتی آڈٹ رپورٹ دستیاب خبر میں شامل نہیں۔

صوبائی وزیر نے آئندہ ماہ مزید ڈبل ڈیکر بسیں اور 500 الیکٹرک بسیں آنے کی بات بھی کی، جبکہ سندھ حکومت کے رہائشی، صحت، شارع بھٹو اور تھرکول منصوبوں کا ذکر کیا۔ ان اعلانات کی عملی حیثیت خریداری، ترسیل، روٹس، فنڈنگ اور باقاعدہ سرکاری شیڈول سے واضح ہوگی۔ خبر میں موجود سیاسی تقابل اور دوسری جماعتوں پر تنقید کو مقرر سے منسوب رکھنا ضروری ہے۔

نئے صوبوں کی بحث وفاق، صوبوں، وسائل، نمائندگی اور انتظامی کارکردگی سے جڑی حساس سیاسی بحث ہے۔ موجودہ بیان کا تصدیق شدہ نکتہ یہ ہے کہ سندھ حکومت اور پیپلز پارٹی آئینی و اسمبلی طریقہ کار پر زور دے رہی ہیں۔ کوئی قرارداد، حتمی نقشہ یا نئی آئینی کارروائی اس رپورٹ میں سامنے نہیں آئی۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک