اسٹاک ہوم: رائل سویڈش اکیڈمی آف سائنسز نے 12 اکتوبر کو معاشیات کے شعبے میں 2026 کے انعام کے لیے دو امریکی ماہرین اقتصادیات رابرٹ ای ہال اور مائیکل ووڈفورڈ کا انتخاب کیا ہے۔ اکیڈمی کے مطابق دونوں محققین کو مجموعی معاشی استحکام کی خرد معاشی بنیادیں واضح کرنے پر اعزاز دیا جارہا ہے۔ ان کی تحقیق نے معاشی بحرانوں کے دوران حکومتوں اور مرکزی بینکوں کی پالیسی سازی کے لیے استعمال ہونے والے ماڈلز کو نئی بنیاد فراہم کی۔
اکیڈمی نے اپنے اعلان میں کہا کہ معیشت میں کساد بازاری اور تیزی کے ادوار آتے رہتے ہیں اور بروقت مالیاتی و زری اقدامات ان اتار چڑھاؤ کی شدت کم کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ تاہم 1970 کی دہائی میں تیل کے بحران کے دوران پرانے معاشی ماڈلز بڑھتی مہنگائی اور کمزور معاشی سرگرمیوں کو بیک وقت مؤثر انداز میں سمجھانے میں مشکلات سے دوچار ہوئے تھے۔ ہال اور ووڈفورڈ کی تحقیق نے اس مسئلے کے لیے مختلف نظریاتی راستہ فراہم کیا۔
ان کے ماڈلز صرف مہنگائی، پیداوار اور کھپت کے بڑے اعدادوشمار کے باہمی تعلق پر انحصار کرنے کے بجائے یہ بھی دیکھتے ہیں کہ گھرانے اور کاروبار مستقبل کے بارے میں توقعات کی بنیاد پر کس طرح فیصلے کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر کسی خاندان کی بچت یا خرچ کرنے کی منصوبہ بندی اور کسی کمپنی کی قیمت مقرر کرنے کی حکمت عملی مجموعی معاشی نتائج پر اثرانداز ہوسکتی ہے۔
اکیڈمی کے مطابق پالیسی ساز ادارے جب شرح سود یا معاشی اقدامات کے بارے میں واضح اور قابل اعتماد اشارے دیتے ہیں تو وہ عوام اور کاروباری اداروں کی توقعات پر بھی اثر ڈال سکتے ہیں۔ اس تصور نے جدید معاشی ماڈلز اور مرکزی بینکوں کی پالیسی سازی میں اہم مقام حاصل کیا ہے۔ اکیڈمی کی معاشیات کمیٹی کے سربراہ جان ہاسلر نے کہا کہ دونوں ماہرین کی تحقیق سے توانائی کے بحران جیسے اچانک معاشی جھٹکوں کو سمجھنے اور ان کا جواب دینے کی صلاحیت بہتر ہوئی ہے۔
رابرٹ ای ہال امریکا کی اسٹینفورڈ یونیورسٹی اور مائیکل ووڈفورڈ کولمبیا یونیورسٹی سے وابستہ ہیں۔ انعام کی مجموعی رقم ایک کروڑ بیس لاکھ سویڈش کرونر ہے جو دونوں فاتحین میں برابر تقسیم ہوگی۔ معاشیات کا یہ اعزاز سویڈن کے مرکزی بینک کی جانب سے قائم کیا گیا تھا اور 1969 سے دیا جارہا ہے؛ یہ الفریڈ نوبیل کی اصل وصیت میں شامل پانچ انعامات سے الگ ہے۔
یہ اعلان معاشی تحقیق کی طویل المدت اہمیت کو نمایاں کرتا ہے، تاہم کسی مخصوص ملک کی موجودہ پالیسی کی کامیابی کو صرف ان ماڈلز سے منسوب کرنا درست نہیں ہوگا۔
