لکسمبرگ: یورپی یونین توانائی کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کے بعد تیل اور گیس کمپنیوں کے غیر معمولی منافع پر مشترکہ ٹیکس عائد کرنے کے امکان کا جائزہ لے رہی ہے۔ یورپی کمیشن میں ٹیکس اور موسمیاتی امور کے ذمہ دار کمشنر ووپکے ہوئکسٹرا نے 12 اکتوبر کو خبر رساں ادارے روئٹرز سے گفتگو میں بتایا کہ کمیشن ایک ورکنگ گروپ قائم کر رہا ہے جو اس تجویز کے فوائد، نقصانات اور قانونی قابل عمل ہونے کا تجزیہ کرے گا۔ اس مرحلے پر کسی نئے ٹیکس کے نفاذ یا شرح کی منظوری نہیں دی گئی۔

اس بحث کا پس منظر عالمی توانائی منڈیوں میں شدید اتار چڑھاؤ ہے۔ مشرق وسطیٰ میں جنگ اور آبنائے ہرمز کے راستے ترسیل میں خلل نے خام تیل کی قیمتوں کو بلند کیا، جس سے صارفین اور کاروباری اداروں کے توانائی بل بڑھے۔ یورپی حکام کے مطابق بعض توانائی کمپنیوں کے منافع میں بھی غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ کمشنر نے کہا کہ کمزور مالی حیثیت رکھنے والے شہریوں کو زیادہ بلوں کا سامنا ہے، جبکہ بعض کمپنیوں کو ایسی عالمی صورت حال سے فائدہ پہنچ رہا ہے جس کے لیے انہوں نے اضافی پیداوار یا خدمات فراہم نہیں کیں۔

جرمنی، اسپین، پرتگال، اٹلی، پولینڈ اور آسٹریا نے یورپی سطح پر ایسے ٹیکس کے امکان کا جائزہ لینے کی حمایت کی ہے۔ تاہم اس کی قانونی بنیاد ایک اہم سوال ہے۔ یورپی یونین نے 2022 میں روس کے یوکرین پر حملے کے بعد توانائی کمپنیوں کے اضافی منافع پر عارضی اقدام متعارف کرایا تھا۔ اس کے تحت مقررہ سابقہ اوسط سے بیس فیصد سے زیادہ منافع پر کم از کم تینتیس فیصد محصول کی شرط رکھی گئی تھی۔ کمیشن کی رپورٹ کے مطابق اس بندوبست سے تقریباً انتیس ارب یورو حاصل ہوئے، مگر اس سے متعلق بعض عدالتی تنازعات ابھی جاری ہیں۔

ہوئکسٹرا نے واضح کیا کہ سابقہ مقدمات اور قانونی اعتراضات کو نئی تجویز کی جانچ میں مدنظر رکھنا ہوگا۔ کچھ رکن ممالک پہلے ہی اپنے قومی سطح کے اقدامات اختیار کر چکے ہیں، لیکن پورے بلاک کے لیے یکساں پالیسی بنانے میں مختلف معیشتوں اور کمپنیوں کی صورت حال کا جائزہ ضروری ہوگا۔ اس وقت بحث کا مقصد بلند توانائی اخراجات سے متاثرہ شہریوں کی مدد کے لیے ممکنہ مالی وسائل تلاش کرنا ہے؛ اس سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مجوزہ ٹیکس یقینی طور پر نافذ ہوگا یا اس سے کتنی رقم حاصل ہوگی۔