اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے پیر 12 اکتوبر 2026 کو فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو ہدایت کی ہے کہ بڑی پیداواری صنعتوں میں سیلز ٹیکس کے لیے ڈیجیٹل پیداوار نگرانی کا نظام رواں سال کے آخر تک مکمل طور پر فعال کیا جائے۔ وزیراعظم نے اسلام آباد میں ایف بی آر اصلاحات کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس کی صدارت کی۔ حکومتی بیان کے مطابق اس اقدام کا مقصد اصل اور ممکنہ ٹیکس وصولیوں کے درمیان فرق کم کرنا ہے۔
اجلاس میں حکام نے بتایا کہ چینی، سیمنٹ، تمباکو، ٹائلز اور کھاد کی صنعتوں میں نگرانی کا نظام مکمل طور پر نصب ہوچکا ہے۔ ٹیکسٹائل، پیک شدہ پانی، جوس اور دودھ کی صنعتوں میں نظام کی تنصیب جاری ہے اور مطلوبہ آلات کی خریداری مکمل کی جاچکی ہے۔ حکام نے توقع ظاہر کی کہ تمام متعلقہ شعبوں میں نظام 31 دسمبر تک کام شروع کردے گا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ اسٹیل، پولٹری اور ٹائروں کی صنعتوں کے لیے آلات کی خریداری 15 اکتوبر تک مکمل کرنے کا ہدف ہے، جبکہ چائے، گھریلو برقی آلات، چمڑے، کاغذ، بورڈ اور تیل و گھی کے شعبوں کے لیے 30 اکتوبر کی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔ یہ مستقبل کی انتظامی مدتیں ہیں؛ ان کی تکمیل کا حتمی ثبوت بعد کی پیش رفت سے سامنے آئے گا۔
حکام کے مطابق بعض ٹیکسٹائل صنعتوں نے نگرانی کے نظام کی تنصیب کی مخالفت کی، تاہم کئی معروف کمپنیوں نے رضاکارانہ طور پر اسے نصب کیا۔ وزیراعظم نے تعاون کرنے والے صنعتی اداروں کو سراہا اور نظام کی تنصیب میں رکاوٹیں دور کرنے کی ہدایت کی۔ ایف بی آر نے بتایا کہ کیمروں کی مدد سے پیداوار کی نگرانی کو فیس لیس نظام کے تحت مؤثر بنایا جا رہا ہے۔
اجلاس میں پیش کردہ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ تین سال میں حکومتی اقدامات کے نتیجے میں اضافی 13 کھرب روپے ٹیکس جمع ہوا، جسے ٹیکس وصولیوں میں چالیس فیصد اضافے سے تعبیر کیا گیا۔ یہ اعدادوشمار اجلاس میں حکام نے فراہم کیے؛ ان کی آزادانہ جانچ کی تفصیل دستیاب رپورٹ میں شامل نہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ صارفین سے ٹیکس وصول کرکے سرکاری خزانے میں جمع نہ کرانے والے کاروبار رعایت کے مستحق نہیں۔
وزیراعظم نے وزارت آئی ٹی کو دوسرے شعبوں میں نگرانی کے نظام کی مؤثریت کا آڈٹ کرنے کی بھی ہدایت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد اور ممکنہ ٹیکس وصولیوں کا حصول عوامی مفاد کے لیے ضروری ہے۔ اب توجہ اس بات پر ہوگی کہ اعلان کردہ نظام مقررہ وقت تک نصب اور عملی طور پر مؤثر ہوتا ہے یا نہیں۔
