اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان نے انتخابات کے دوران مصنوعی ذہانت کے ممکنہ غلط استعمال اور گمراہ کن ڈیپ فیک مواد کی روک تھام کے لیے انتخابی ضابطہ اخلاق میں ترامیم تجویز کی ہیں۔ ایکسپریس ٹریبیون کی 26 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق مجوزہ تبدیلیاں سیاسی جماعتوں اور امیدواروں، میڈیا اداروں اور انتخابی مبصرین کے لیے موجود ضابطوں میں شامل کی جائیں گی اور کمیشن نے متعلقہ فریقوں اور عوام سے 20 نومبر تک رائے طلب کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق میڈیا اداروں کے لیے تجویز ہے کہ نشر، شائع یا جاری کیے جانے والے ایسے مواد کی واضح نشاندہی کی جائے جو مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار یا نمایاں طور پر تبدیل کیا گیا ہو۔ انتخابی ابلاغ میں شفافیت اس لیے اہم سمجھی جا رہی ہے کہ جدید جنریٹو اے آئی ٹولز حقیقی دکھائی دینے والی تصاویر، آوازیں اور ویڈیوز تیار کر سکتے ہیں، جنہیں ووٹرز کے لیے اصل اور جعلی میں فرق کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔
مجوزہ قواعد میں سیاسی رہنماؤں، امیدواروں، انتخابی حکام، عدلیہ، مسلح افواج اور دیگر ریاستی عہدیداروں سے منسوب جعلی تصاویر، آوازیں یا بیانات تیار کرنے کے لیے ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کے استعمال پر پابندی کی تجویز شامل ہے، خصوصاً جب مواد جھوٹا، ہتک آمیز یا تضحیک کے مقصد سے بنایا گیا ہو۔ میڈیا کو ترجمہ، تیاری، پیشکش یا تجزیے کے لیے اے آئی ٹولز استعمال کرنے کی اجازت ہو سکتی ہے، لیکن اس کے استعمال کی وضاحت اور مواد کی صحت کی ذمہ داری ادارے پر برقرار رہے گی۔
رپورٹ کے مطابق پیمرا، سوشل میڈیا سے متعلق ریگولیٹری ادارہ اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی غیر ظاہر شدہ یا غلط لیبل والے اے آئی مواد کی نگرانی میں کردار ادا کر سکتے ہیں اور خلاف ورزیوں سے الیکشن کمیشن کو آگاہ کیا جا سکتا ہے۔ گمراہ کن مواد سامنے آنے پر اسے ہٹانے یا درست لیبل لگانے کی ہدایت دینے کا طریقہ بھی مجوزہ فریم ورک کا حصہ ہے۔
یہ تجاویز ابھی حتمی قانون یا نافذ شدہ ضابطہ نہیں ہیں۔ الیکشن کمیشن نے مشاورت کے لیے مہلت مقرر کی ہے، اس لیے حتمی متن میں تبدیلی ممکن ہے۔ بنیادی پالیسی سوال یہ ہے کہ انتخابی اظہار اور جائز تکنیکی استعمال کو برقرار رکھتے ہوئے ووٹرز کو مصنوعی طور پر تیار کردہ دھوکا دہی سے کیسے محفوظ رکھا جائے۔ اگر ترامیم منظور ہوتی ہیں تو پاکستان کے انتخابی ضابطوں میں جنریٹو اے آئی اور ڈیپ فیک کے لیے واضح ذمہ داریوں کا ایک باقاعدہ فریم ورک شامل ہو جائے گا۔

