اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے وزیراعظم یوتھ پروگرام کے تحت ملک بھر کے طلبہ کے لیے پانچ لاکھ کروم بکس اور انٹرنیٹ سہولت فراہم کرنے کی اسکیم کا آغاز کر دیا ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق یہ آلات آئندہ دو سال کے دوران میرٹ کی بنیاد پر اسکولوں اور دینی مدارس کے باصلاحیت طلبہ میں تقسیم کیے جائیں گے، جبکہ منتخب طلبہ کو بیگز اور MiFi ڈیوائسز بھی فراہم کی جائیں گی تاکہ وہ گھر سے انٹرنیٹ، آن لائن کلاسز اور الیکٹرانک لائبریریوں تک رسائی حاصل کر سکیں۔
تقریب سے خطاب میں وزیراعظم نے کہا کہ جدید تعلیم اور ٹیکنالوجی تک رسائی کسی طالب علم کے خاندان کی مالی حیثیت سے محدود نہیں ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ طلبہ کے انتخاب کا معیار محنت اور قابلیت ہوگا اور حکومت کا مقصد ایسے نوجوانوں کو تعلیمی وسائل فراہم کرنا ہے جو مالی مشکلات کے باوجود آگے بڑھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
شہباز شریف نے سابقہ لیپ ٹاپ پروگرام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مختلف ادوار میں پنجاب، سندھ، بلوچستان، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کے طلبہ کو تقریباً چھ لاکھ لیپ ٹاپ میرٹ پر دیے گئے تھے۔ ان کے مطابق نئی اسکیم میں پانچ لاکھ کروم بکس دو سال کے اندر تقسیم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ سابقہ لیپ ٹاپ پروگرام کی افادیت کورونا وبا کے دوران نمایاں ہوئی جب طلبہ نے آن لائن تعلیم جاری رکھنے کے لیے ان آلات کا استعمال کیا۔
وزیراعظم نے واضح کیا کہ موجودہ پروگرام میں دینی مدارس کے طلبہ بھی شامل ہوں گے اور انتخاب تعلیمی ادارے کی نوعیت کے بجائے قابلیت اور محنت کی بنیاد پر ہوگا۔ انہوں نے تقریب میں شریک ایسے طلبہ کا ذکر بھی کیا جنہوں نے مشکل معاشی یا خاندانی حالات کے باوجود اپنی تعلیم جاری رکھی۔ ان کے مطابق ٹیکنالوجی تک رسائی تعلیم کے ساتھ مستقبل میں روزگار اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے لیے بھی معاون ثابت ہو سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق حکومت اس پروگرام کو پاکستان میں مقامی ٹیکنالوجی پیداوار اور ڈیجیٹل مہارتوں کے وسیع تر اقدامات سے بھی جوڑ رہی ہے۔ گزشتہ برس گوگل کروم بکس کی مقامی تیاری سے متعلق پیش رفت ہوئی تھی جبکہ نوجوانوں کے لیے ڈیجیٹل اور اے آئی مہارتوں کے پروگرام بھی شروع کیے گئے۔ تاہم پانچ لاکھ آلات کی تقسیم مرحلہ وار دو سال میں ہونی ہے، اس لیے پروگرام کی اصل رسائی کا جائزہ تقسیم کے عملی اعداد، انتخاب کے طریقہ کار اور مختلف علاقوں میں مستفید ہونے والے طلبہ کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد لیا جا سکے گا۔

