انقرہ: پاکستان کی فوجی ڈرون ٹیم نے ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں ہونے والے بین الاقوامی ملٹری ڈرون ٹیم مقابلے میں 33 ممالک کے درمیان دوسری پوزیشن حاصل کی ہے۔ ڈیلی ٹائمز کی 25 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق میزبان ترکیہ نے پہلی، پاکستان نے دوسری، اٹلی نے تیسری اور فرانس نے چوتھی پوزیشن حاصل کی۔ مقابلے میں ڈرون آپریشن، رفتار، درستگی اور رکاوٹوں کے درمیان کنٹرول جیسی عملی مہارتوں کو جانچا گیا۔

پاکستانی ٹیم کی مجموعی کامیابی کے ساتھ انفرادی سطح پر بھی نمایاں نتیجہ سامنے آیا۔ رپورٹ کے مطابق کیپٹن طلحہ نے 100 سے زیادہ بین الاقوامی پائلٹس کے درمیان دوسری پوزیشن حاصل کرتے ہوئے چاندی کا تمغہ جیتا۔ انفرادی مقابلے میں پائلٹس کو مختلف تکنیکی اور عملی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا، جن میں محدود راستوں سے ڈرون گزارنا، تیز ردعمل اور ہدف کے مطابق درست کنٹرول شامل تھا۔

بین الاقوامی فوجی ڈرون مقابلے ایسے وقت میں زیادہ اہمیت اختیار کر رہے ہیں جب بغیر پائلٹ فضائی نظام جدید دفاعی حکمت عملی، نگرانی، معلومات جمع کرنے اور متعدد آپریشنل کرداروں میں تیزی سے استعمال ہو رہے ہیں۔ تاہم مقابلے میں حاصل ہونے والی پوزیشن کو براہ راست کسی ملک کی مجموعی جنگی صلاحیت یا حقیقی میدانِ جنگ کی کارکردگی کا پیمانہ نہیں سمجھا جا سکتا؛ یہ مخصوص قواعد اور طے شدہ تکنیکی مشقوں کے تحت ٹیموں اور انفرادی آپریٹرز کی مہارت کا نتیجہ ہے۔

پاکستان کی دوسری پوزیشن سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستانی آپریٹرز نے مقررہ مشقوں میں تکنیکی کنٹرول اور درستگی کے اعتبار سے مضبوط کارکردگی دکھائی۔ کیپٹن طلحہ کا انفرادی چاندی کا تمغہ بھی اسی مقابلے کے اندر ان کی ذاتی آپریٹنگ مہارت کی تصدیق کرتا ہے۔ رپورٹ میں مقابلے کے تمام راؤنڈز کے تفصیلی اسکور یا ہر ٹیم کے استعمال کردہ ڈرون پلیٹ فارم کی مکمل تکنیکی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

ترکیہ حالیہ برسوں میں بغیر پائلٹ فضائی نظام کی تیاری اور استعمال میں نمایاں ملک کے طور پر سامنے آیا ہے، اس لیے انقرہ میں ہونے والا یہ مقابلہ مختلف ممالک کے اہلکاروں کو ایک مشترکہ تکنیکی ماحول میں اپنی مہارت آزمانے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ پاکستان کی مجموعی دوسری پوزیشن اور انفرادی سلور میڈل اس مخصوص بین الاقوامی ایونٹ میں قابل ذکر نتیجہ ہے، جبکہ اس سے وسیع دفاعی نتائج اخذ کرنے کے لیے مزید آزاد تکنیکی معلومات درکار ہوں گی۔