اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان نے تین سابق ارکان قومی اسمبلی، زرتاج گل، صاحبزادہ حامد رضا اور عبداللطیف کو مالی سال 2024-25 کے اثاثوں اور واجبات کے مطلوبہ گوشوارے جمع نہ کرانے کے باعث انتخابات میں حصہ لینے کے لیے نااہل قرار دیا ہے۔ کمیشن کا اقدام انتخابی قوانین کے تحت سابق اور موجودہ قانون سازوں پر عائد مالی تفصیلات جمع کرانے کی ذمہ داری سے متعلق ہے۔

دستیاب رپورٹ کے مطابق الیکشن کمیشن نے تینوں سابق اراکین کے نام اس بنیاد پر انتخاب لڑنے کے لیے غیر اہل قرار دیے کہ انہوں نے متعلقہ مالی سال کے اثاثوں اور واجبات کی تفصیلات مقررہ تقاضوں کے مطابق جمع نہیں کرائیں۔ یہ کارروائی کسی فوجداری مقدمے میں سزا یا مالی بدعنوانی کے عدالتی فیصلے کے مترادف نہیں، بلکہ قانونی طور پر درکار گوشوارے جمع نہ ہونے سے پیدا ہونے والی انتخابی اہلیت کی پابندی ہے۔

زرتاج گل، صاحبزادہ حامد رضا اور عبداللطیف قومی سیاست میں مختلف حلقوں کی نمائندگی کر چکے ہیں۔ الیکشن کمیشن ہر سال اراکین پارلیمان اور صوبائی اسمبلیوں سے اثاثوں اور واجبات کی تفصیلات طلب کرتا ہے تاکہ انتخابی اور پارلیمانی ریکارڈ میں مالی معلومات کی قانونی شرط پوری کی جا سکے۔ مقررہ مدت میں تفصیلات فراہم نہ کرنے کی صورت میں قانون کے تحت رکنیت یا انتخابی اہلیت سے متعلق نتائج پیدا ہو سکتے ہیں۔

اس فیصلے کی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ انتخابی اہلیت کے معاملات میں کسی پابندی کی نوعیت، قانونی بنیاد اور اس کے خاتمے یا بحالی کی شرائط الگ الگ ہو سکتی ہیں۔ دستیاب خبر میں بنیادی طور پر مالی سال 2024-25 کے گوشواروں کی عدم فراہمی کو وجہ بتایا گیا ہے۔ اس لیے اسے مستقل سیاسی نااہلی یا کسی دوسرے مقدمے میں سزا کے طور پر بیان کرنا درست نہیں ہوگا جب تک الیکشن کمیشن یا عدالت کی جانب سے ایسی الگ قانونی حیثیت واضح نہ کی جائے۔

الیکشن کمیشن کے فیصلوں کے خلاف متعلقہ فریق قانون کے مطابق دستیاب فورمز سے رجوع کر سکتے ہیں۔ فوری طور پر دستیاب رپورٹ میں تینوں سابق اراکین کے تفصیلی ردعمل یا کسی اپیل کے اندراج کی تصدیق نہیں کی گئی۔ خبر کا مصدقہ نکتہ یہی ہے کہ کمیشن نے مالی سال 2024-25 کے اثاثوں اور واجبات کے بیانات جمع نہ ہونے پر ان کی انتخابی اہلیت کے خلاف کارروائی کی ہے۔