اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان نے تین سابق ارکان قومی اسمبلی، زرتاج گل، صاحبزادہ حامد رضا اور عبداللطیف، کو مالی سال 2024-25 کے اثاثوں اور واجبات کے مطلوبہ گوشوارے جمع نہ کرانے پر انتخابات میں حصہ لینے کے لیے نااہل قرار دیا ہے۔ کمیشن کے مطابق یہ پابندی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک متعلقہ سابق ارکان مقررہ فارم بی کے ذریعے مطلوبہ تفصیلات جمع نہیں کرا دیتے۔
الیکشن کمیشن نے اپنے حکم میں انتخابات ایکٹ 2017 کی دفعہ 137 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اثاثوں اور واجبات کی تفصیلات جمع کرانا قانونی تقاضا ہے۔ کمیشن کے مطابق 7 اگست 2026 کے حکم کے تحت ان سابق ارکان کو عام انتخابات، ضمنی انتخابات، سینیٹ انتخابات اور بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے کے لیے نااہل قرار دیا گیا تھا، اور موجودہ حیثیت مطلوبہ گوشوارے جمع ہونے تک برقرار رہے گی۔
یہ کارروائی اثاثوں کے گوشواروں کی عدم فراہمی سے متعلق انتظامی و قانونی پابندی ہے۔ اسے کسی دوسرے مقدمے میں سزا یا مستقل انتخابی نااہلی کے مترادف نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ ڈان کے مطابق زرتاج گل اور صاحبزادہ حامد رضا اس سے پہلے بھی انتخابی و عدالتی معاملات میں نااہلی کے فیصلوں کا سامنا کر چکے ہیں، جبکہ عبداللطیف کے بارے میں بھی سابقہ انتخابی کارروائی کا ریکارڈ موجود ہے۔ تاہم تازہ حکم کی بنیاد مالی سال 2024-25 کے اثاثوں اور واجبات کے گوشوارے جمع نہ کرانا ہے۔
قانون کے تحت منتخب نمائندوں اور متعلقہ سابق ارکان کے مالی گوشواروں کا نظام شفافیت اور قانونی تعمیل کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ موجودہ حکم کے عملی اثرات یہ ہیں کہ تینوں شخصیات مطلوبہ دستاویزات جمع کرانے تک کسی عام، ضمنی، سینیٹ یا بلدیاتی انتخاب میں امیدوار نہیں بن سکتیں۔ اگر وہ قانونی تقاضا پورا کرتے ہیں تو ان کی حیثیت کا تعین الیکشن کمیشن کے متعلقہ قواعد اور حکم کے مطابق ہوگا۔




