اسلام آباد: پاکستان نے شمالی کوریا کے 78ویں یوم تاسیس کے موقع پر ایک نسبتاً غیر معمولی عوامی سفارتی پیغام جاری کیا ہے۔ صدر آصف علی زرداری نے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کے نام خط میں دونوں ملکوں کے تعلقات کو باہمی اعتماد اور خیرسگالی پر مبنی قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ دوطرفہ روابط دونوں ممالک کے مفاد میں آگے بڑھتے رہیں گے۔
دفتر خارجہ نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شمالی کوریا کو مبارکباد دی اور پاکستان کے پیانگ یانگ میں سفارتی مشن کو ٹیگ کیا۔ ڈان کے مطابق مشن کی اپنی ویب سائٹ اسے اس وقت بند ظاہر کرتی ہے۔ حالیہ برسوں میں پاکستان اور شمالی کوریا کے درمیان اس نوعیت کے نمایاں عوامی پیغامات نسبتاً کم دیکھنے میں آئے ہیں، جس کے باعث تازہ تبادلہ توجہ کا باعث بنا۔
دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے تاہم اس پیش رفت کو کسی بڑی سفارتی تبدیلی سے جوڑنے سے گریز کیا۔ ان کے مطابق قومی مواقع پر مبارکباد کے پیغامات کا تبادلہ ایک معمول کی سفارتی روایت ہے۔ پاکستان اور شمالی کوریا نے 1968 میں قونصلر تعلقات قائم کیے تھے اور چار سال بعد انہیں سفیر کی سطح تک بڑھایا گیا، لیکن گزشتہ دو دہائیوں میں تعلقات زیادہ تر کم سطح پر رہے ہیں۔
شمالی کوریا کے جوہری اور میزائل پروگراموں کے باعث اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابندیوں نے بھی دوطرفہ روابط کے دائرے کو محدود کیا ہے۔ پاکستان ان پابندیوں پر عمل درآمد کرتا ہے، جن میں بعض تجارتی و کاروباری سرگرمیوں پر قدغنیں، ایئر کوریو کی پروازوں کی معطلی، شمالی کوریائی سفارت کاروں کی سرگرمیوں اور بینک اکاؤنٹس کی نگرانی اور سفارتی اہلکاروں کے لیے سخت ویزا تقاضے شامل ہیں۔
اگرچہ پاکستان کا پیانگ یانگ مشن فی الحال بند ہے، شمالی کوریا کا سفارت خانہ اسلام آباد میں موجود ہے اور اس نے اپنے قومی دن کی تقریب بھی منعقد کی۔ موجودہ مبارکباد کو دفتر خارجہ نے معمول کا سفارتی تبادلہ قرار دیا ہے؛ اس لیے اسے پابندیوں کی پالیسی، سفارتی سطح یا دوطرفہ تعلقات میں باضابطہ تبدیلی کا اعلان نہیں سمجھا جا سکتا جب تک حکومت کی جانب سے کوئی الگ پالیسی یا عملی قدم سامنے نہ آئے۔




