اسلام آباد/واشنگٹن: وزیراعظم شہباز شریف رواں ماہ نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس میں شرکت کریں گے، جہاں ان کے خطاب میں جاری امریکی ایران جنگ اور اس کے پرامن حل کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو نمایاں مقام ملنے کی توقع ہے۔ ڈان کے مطابق وزیراعظم 25 ستمبر کو جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے، جبکہ اعلیٰ سطح کا عمومی مباحثہ 22 سے 26 ستمبر تک جاری رہے گا اور آخری نشست 28 ستمبر کو مقرر ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس سال جنرل اسمبلی کے اجلاس کا باضابطہ موضوع اعتماد کی بحالی، تبدیلی کے انتظام اور مؤثر اقوام متحدہ سے متعلق ہے، تاہم خلیجی خطے میں جاری جنگ اور اس کے علاقائی و عالمی اثرات اعلیٰ سطحی مباحثے پر غالب رہنے کا امکان ہے۔ پاکستان نے تنازع کے دوران کشیدگی کم کرنے اور سفارتی راستہ اختیار کرنے پر زور دیا ہے، اور وزیراعظم سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ اسی تناظر میں اسلام آباد کی کوششوں اور موقف کی وضاحت کریں گے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے افتتاحی دن خطاب کا پروگرام بھی رپورٹ کیا گیا ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی شرکت کے بارے میں تاحال حتمی تصدیق سامنے نہیں آئی۔ اس لیے ان کی ممکنہ موجودگی کو طے شدہ پروگرام کے طور پر بیان نہیں کیا جا سکتا۔ جنرل اسمبلی کے دوران ایران سے متعلق پابندیوں کی نگرانی کرنے والے انتظامات اور متعلقہ سفارتی معاملات بھی توجہ کا مرکز رہ سکتے ہیں۔

پاکستان کے لیے یہ اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کے اثرات توانائی کی قیمتوں، تجارت، بیرونی ادائیگیوں اور خطے میں پاکستانی شہریوں و کاروباری مفادات تک پھیل رہے ہیں۔ وزیراعظم کا خطاب پاکستان کو جنگ بندی، مذاکرات اور بین الاقوامی سفارت کاری کے حق میں اپنا موقف عالمی فورم پر پیش کرنے کا موقع دے گا۔ کسی ممکنہ مذاکراتی پیش رفت یا فریقین کے ردعمل کے بارے میں فی الحال کوئی حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ رپورٹ میں وزیراعظم کے متوقع خطاب اور سفارتی ترجیحات کا ذکر ہے، کسی نئے امن معاہدے کا نہیں۔